ثالث ممالک کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری،خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،ایران کا مؤقف

مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی بھی طے تھی، تاہم امریکا اب تک اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکا

July 27, 2026 · بام دنیا

تہران: ایران نے کہا ہے کہ پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور قومی سلامتی کا دفاع تہران کی اولین ترجیح ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز سے محفوظ بحری گزرگاہ کی فراہمی سے متعلق اپنی ذمہ داری پوری کی، لیکن طے شدہ مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی امریکا نے بعض بحری جہازوں سے متعلق واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے کیے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسرا موقع ہے جب مذاکرات کے عمل کے دوران ایران کو فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی بھی طے تھی، تاہم امریکا اب تک اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکا۔ ان کے مطابق معاہدے کی مختلف شقوں پر عمل درآمد نہ کرنا مفاہمت کی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ معاہدے کی شرائط واضح تھیں اور ان میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں تھا۔ ان کے بقول امریکا نے معاہدے پر دستخط کے باوجود اس کی کئی شقوں پر عمل نہیں کیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ ایران مذاکرات کی بحالی میں سنجیدہ نہیں اور ماضی میں بھی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔

ایران اور امریکا کی جانب سے ایک دوسرے پر عائد کیے گئے الزامات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ ثالث ممالک رابطوں کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔