تنخواہ دار طبقے کیلئے بڑا ریلیف پیکیج،ٹیکس سلیبز میں تبدیلی کی تجویز
حکومت نے ماہانہ 1 لاکھ، 2 لاکھ اور 3 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس میں ریلیف دینے کی مختلف تجاویز تیار کی ہیں
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کے لیے اہم تجاویز پر کام مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف آمدنی والے گروپس کے لیے انکم ٹیکس میں کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ماہانہ 1 لاکھ، 2 لاکھ اور 3 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس میں ریلیف دینے کی مختلف تجاویز تیار کی ہیں۔ ان تجاویز میں ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد سالانہ آمدن پر عائد 10 فیصد سرچارج ختم کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ اگر آئی ایم ایف اس پر مکمل منظوری نہ دے تو اس شرح کو کم کرنے کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف آمدنی سلیبز کے لیے ٹیکس کی شرح میں 3 سے 10 فیصد تک کمی کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔ ان تجاویز پر حتمی فیصلہ آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔
مزید منصوبے کے مطابق اعلیٰ آمدن والے طبقے کے لیے موجودہ ٹیکس ڈھانچے میں بھی تبدیلی پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں بعض سلیبز کی حد میں اضافہ اور نئی سلیبز کا تعارف شامل ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس پالیسی کا مقصد تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنا اور ٹیکس نظام کو زیادہ متوازن بنانا ہے۔ اسی کے ساتھ برآمدکنندگان کے لیے بھی ریلیف پیکیج پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے معیشت کو سہارا دینے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔