ایران کا جنگ بندی کی ’خلاف ورزیوں‘ پر مذاکرات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ
سفارت کاری اور میدانِ جنگ الگ معاملات نہیں، ہمیں اس کا جائزہ لینا ہو گا،اسماعیل بقائی
فائل فوٹو
تہران: ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’بار بار ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے سفارتی مذاکرات کے مستقبل کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس کا جائزہ لینا ہوگا۔ سفارت کاری اور میدانِ جنگ الگ معاملات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایران کے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
خیال رہے ایران اور امریکہ کے درمیان بدھ کی صبح سے ہی کشیدگی جاری ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔
علی الصبح امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔
سینٹکام نے ایک بیان میں کہا ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناظر میں ایک جواب ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے (امریکی فوجی اڈوں کے) چار بڑے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے پاسداران انقلاب کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ ان میں F-35 کے ہینگرز اور اردن کے علاقے الازرق میں ایک امریکی فوجی کمانڈ اور کنٹرول مرکز شامل ہیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی مسلح افواج ضروری سمجھتی ہیں، وہ دشمن کو اپنے اختیارات اور طاقت کے ساتھ جواب دیتی ہیں اور گذشتہ رات کے واقعات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ایران کی بہادر مسلح افواج ملک کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں۔