چکوال فائرنگ کیس:معصوم حانیہ کی موت، تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

ڈاکوؤں کے تعاقب میں CCD اہلکاروں نے خاندان کی گاڑی کو مشتبہ سمجھ لیا، واقعے پر ایک اہلکار معطل، تحقیقات شروع۔۔۔

June 12, 2026 · قومی
چکوال فائرنگ کیس:معصوم حانیہ کی موت، تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

چکوال ۔کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کے اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔ واقعے میں 9 سالہ حانیہ احمد جاں بحق جبکہ اس کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی آفان احمد شدید زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب چکوال شہر میں مبینہ ڈکیتی کی ایک واردات کے دوران CCD اہلکاروں نے ایک گاڑی کو مشتبہ سمجھتے ہوئے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کی زد میں آ کر 9 سالہ حانیہ احمد جان کی بازی ہار گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔

واقعہ کے بعد CCD کے ایک اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ CCD راولپنڈی ریجن کے ریجنل آفیسر حسن جہانگیر وٹو اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) چکوال کاشف ذوالفقار نے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

پولیس اور اہل خانہ کے مطابق 39 سالہ عدیل احمد آسٹریلوی شہری اور ڈھڈیال کے رہائشی ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، بیٹے آفان اور بیٹی حانیہ کے ہمراہ حال ہی میں پاکستان آئے تھے۔ میاں بیوی حج کی سعادت حاصل کرکے بدھ کی صبح وطن واپس پہنچے تھے۔ رات کو عدیل کے سسر نے دونوں بیٹیوں کے اہل خانہ کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

عشائیے کے بعد عدیل احمد رات 11:40 بجے سسرال سے روانہ ہوئے۔ راستے میں ان کی اہلیہ نے اپنے ماموں راجہ علی اعجاز کے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی، جن کا مکان CCD تھانے سے متصل ہے۔ اسی دوران دو مسلح موٹرسائیکل سوار مبینہ طور پر گاڑی کے قریب آئے اور اہل خانہ سے نقدی اور زیورات چھین لیے۔

تھری اسٹارز میڈیا گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے مقتولہ کے ماموں راجہ علی اعجاز نے بتایا، “گاڑی میرے گھر کے سامنے رکی ہی تھی کہ موٹرسائیکل پر سوار دو ڈاکو آ گئے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور پھر ایک ڈاکو پستول تان کر گاڑی کے قریب آیا اور عدیل احمد اور ڈاکٹر سدرہ سے زیورات اور نقدی کا مطالبہ کرنے لگا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی بھانجی نے تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کے زیورات ڈاکو کے حوالے کر دئیے۔

زیورات لے کر ڈاکو جیسے ہی پلٹا تو باہر سے کھانا کھا کر واپس آنے والے ایک CCD اہلکار کی نظر اس پر پڑ گئی۔ اہلکار دوڑ کر تھانے گیا، ایک کانسٹیبل سے ایس ایم جی (SMG) رائفل لی اور ڈاکوؤں پر فائرنگ شروع کر دی۔ ڈاکوؤں نے بھی جوابی فائرنگ کی اور اپنی موٹرسائیکل چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

ایک پولیس افسر نے تھری اسٹارز میڈیا گروپ کو بتایا کہ فائرنگ کے شور سے خوفزدہ ہو کر عدیل احمد نے فوری طور پر گاڑی وہاں سے نکال لی۔ “پولیس نے جب گاڑی کو تیزی سے نکلتے دیکھا تو اسے ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ لیا، جس کے بعد اہلکاروں نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔”
پولیس ذرائع کے مطابق اہلکاروں کو شبہ تھا کہ مذکورہ گاڑی ڈاکوؤں کے زیرِ استعمال ہے، تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ گاڑی میں ایک خاندان سوار تھا جو خود ڈکیتی کا شکار ہوا تھا۔

سی سی ڈی اہلکار موٹرسائیکلوں پر گاڑی کے پیچھے گئے لیکن اسے روک نہ سکے۔ عدیل احمد شدید زخمی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے بمشکل اپنے سسر کے گھر کے گیٹ تک پہنچے، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گاڑی پر قابو نہ رکھ سکے اور گاڑی گیٹ سے جا ٹکرائی۔

فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے عدیل احمد اور ان کے بیٹے آفان احمد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد راولپنڈی منتقل کیا گیا، جہاں دونوں کے آپریشن کیے گئے۔ عدیل احمد کو علاج کے بعد گھر منتقل کر دیا گیا جبکہ آفان احمد کا علاج جاری ہے۔ واقعے میں ڈاکٹر سدرہ خان محفوظ رہیں۔
ڈی پی او چکوال کاشف ذوالفقار نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب مقتولہ حانیہ احمد کے اہل خانہ نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ شہریوں پر فائرنگ کے اس واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔