عبوری معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔ تفصیلات جلد سامنے لائیں گے۔عراقچی

معاہدے میں جنگ بندی، پابندیوں کے خاتمے اور ہرمز کی بحالی شامل ہیں

June 13, 2026 · بام دنیا

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے اور اس میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق یادداشت 14 نکات پر مشتمل ہوگی اور حتمی اتفاق رائے کے بعد اس کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں جوہری معاملات کو مؤخر کر دیا گیا ہے اور امریکہ کے بعض جوہری مطالبات ایران کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عبوری معاہدے پر عمل درآمد جوہری مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہوگا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں خطے کے مختلف محاذوں پر جنگ کے خاتمے، لبنان میں جنگ بندی، امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کے خاتمے کے ساتھ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے جیسے نکات شامل ہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران لبنان میں حزب اللہ کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطلب اسرائیلی افواج کا مقبوضہ علاقوں سے انخلا ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں کامیاب رہا اور جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سمیت بعض عناصر ایران امریکا مفاہمت کے مخالف ہیں، تاہم تہران کسی دباؤ یا دھمکی کے آگے نہیں جھکے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر عبوری معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہ ہوا تو جوہری مذاکرات کے اگلے مرحلے کا آغاز ممکن نہیں ہوگا۔