راولاکوٹ میں کشیدگی، سکیورٹی فورسز کا آپریشن،علاقہ خالی کرانے کا دعویٰ

دریک عیدگاہ کا علاقہ خالی کرالیا گیا ہے، تاہم آزاد پتن کے مقام پر مظاہرین کی موجودگی اب بھی برقرار ہے

June 14, 2026 · اہم خبریں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں مبینہ طور پر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دریک عیدگاہ کا علاقہ خالی کرالیا گیا ہے، تاہم آزاد پتن کے مقام پر مظاہرین کی موجودگی اب بھی برقرار ہے جن کی تعداد 500 سے کم بتائی جا رہی ہے۔

پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان کے مطابق اتوار کی صبح دریک عیدگاہ کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایک شخص کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر براہ راست فائرنگ کی گئی جبکہ پولیس اور دیگر اداروں نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی فائرنگ نہیں کی۔ مزید کہا گیا کہ بکتر بند گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما اکرم عباسی نے الزام لگایا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے پرامن طور پر بیٹھے مظاہرین پر دھاوا بول دیا۔ ان کے مطابق لاٹھی چارج، آنسو گیس اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ علاقے کی ناکہ بندی کے باعث زخمیوں کو راولاکوٹ اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔

واضح رہے کہ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون سے جاری احتجاجی لانگ مارچ کے شرکا مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے انہیں مختلف مقامات پر روک رکھا ہے۔

حکام کے مطابق تنظیم پر بغاوت کا الزام عائد کرتے ہوئے پابندی لگائی گئی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی جاری ہے، جبکہ بعض رہنماؤں کے بارے میں اطلاع دینے پر انعام بھی مقرر کیا گیا ہے۔

ادھر جھڑپوں میں اب تک چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ وزارت داخلہ نے تنظیم کی کور کمیٹی اور سرگرم ارکان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش بھی بھجوا دی ہے۔