امریکہ سے معاہدے کے خلاف ایران میں وزارت خارجہ کیخلاف مظاہرے

سیاہ لباس میں ملبوس خواتین نے سرخ اور سیاہ پرچم لہراتے ہوئے عمارت کے باہر “عباس عراقچی نامنظور” اور “درانداز کو موت” جیسے نعرے لگائے۔

June 14, 2026 · بام دنیا

 ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر درجنوں افراد نے ہفتے کے روز احتجاج کیا، جس میں اعلیٰ سفارت کار عباس عراقچی کے ایک ٹی وی انٹرویو کے بعد نعرے بازی کی گئی۔

فارس نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو کے مطابق سیاہ لباس میں ملبوس خواتین نے سرخ اور سیاہ پرچم لہراتے ہوئے عمارت کے باہر “عباس عراقچی نامنظور” اور “درانداز کو موت” جیسے نعرے لگائے۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور پاکستان کی ثالثی میں ممکنہ امن معاہدے کی خبریں زیر بحث ہیں، جس کی سخت گیر ایرانی حلقوں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔

مظاہرین کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے قومی مفادات کے خلاف ہے اور اس سے تہران کو آبنائے ہرمز جیسے اہم اسٹریٹجک علاقے میں فائدہ اٹھانے سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔

جمعہ کو سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ممکنہ معاہدے میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری پابندیاں ہٹانے کی بات شامل ہے، جو آبنائے ہرمز میں ایران کی حکمت عملی کے جواب میں لگائی گئی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہے گی اور یہ ایران کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک ہتھیار ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی غیر مصدقہ ویڈیوز میں تہران میں بھی احتجاج دکھایا گیا ہے، جہاں مظاہرین نے “استعفیٰ دو عراقچی” اور “استعفیٰ دو محمد باقر قالیباف” کے نعرے لگائے۔

دوسری جانب امریکہ اور پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امن معاہدے پر اتوار تک دستخط ہو سکتے ہیں، تاہم ایران نے اس ٹائم لائن پر محتاط ردعمل دیا ہے۔