ایران سے معاہدے پرامریکا اور اسرائیل میں ٹھن گئی

June 15, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تل ابیب، واشنگٹن: امریکہ اور اس کے دیرینہ مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی اسرائیل کے درمیان پالیسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اسرائیل کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے معروف روزنامے ’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی تازہ ترین اشاعت میں ’محاذ آرائی‘ کی بڑی سرخی کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی اس سنگین خلیج کو نمایاں کیا ہے۔

دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ محاذ آرائی روایتی حریفوں یعنی امریکہ اور ایران کے درمیان نہیں، بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے مابین گہرے ہوتے ہوئے سفارتی اور سیاسی اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔

معاہدے پر عدم ہم آہنگی اور مشاورت کا فقدان

رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری حالیہ سفارتی عمل یا ممکنہ معاہدے کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان مکمل ہم آہنگی کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ باوثوق ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل کو اس معاہدے کے خدوخال کے بارے میں صرف ‘آگاہ’ کیا گیا تھا، جبکہ اس حساس معاملے پر اس سے کسی قسم کی ‘مشاورت’ نہیں کی گئی۔ اس اقدام کو سفارتی حلقوں میں نیتن یاہو حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا نیتن یاہو پر کڑا وار

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت کے خلاف اپنے سخت گیر مؤقف کا کھل کر اظہار کر دیا ہے۔ گزشتہ شب امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کو ایک ’بہت مشکل اور پیچیدہ شخصیت‘ قرار دیا، جس سے دونوں رہنماؤں کے مابین موجود ذاتی اور پالیسی سطح کی تلخی واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔

متضاد سیاسی مفادات: جنگ کا خاتمہ بمقابلہ بقا کی جنگ

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے متضاد اقدامات کے پیچھے ان کے اپنے اپنے ملکوں کے داخلی سیاسی مفادات کارفرما ہیں.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف: امریکہ میں اس وقت عوامی رائے عامہ کا شدید دباؤ ہے اور نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات بھی سر پر ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر صدر ٹرمپ اس انتہائی مہنگی، طویل اور غیر مقبول جنگ کو ہر صورت ختم کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ داخلی محاذ پر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کر سکیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا مؤقف: اس کے برعکس، اسرائیل کے اندر نیتن یاہو پر جنگ کو جاری رکھنے کے لیے شدید سیاسی دباؤ ہے۔ اسرائیل میں چند ماہ بعد عام انتخابات متوقع ہیں اور رائے عامہ کے حالیہ جائزوں (Polls) کے مطابق نیتن یاہو کی مقبولیت گراف گر چکا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا اقتدار ختم ہونے کا قوی امکان ہے۔

نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل اور قانونی مشکلات

مبصرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے لیے یہ جنگ محض ایک فوجی معرکہ نہیں بلکہ ان کی اپنی سیاسی بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگر وہ انتخابات ہار کر اقتدار سے محروم ہوتے ہیں، تو ان کے خلاف بدعنوانی (کرپشن) کے مقدمات میں قانونی مشکلات اور گرفتاری کے خطرات انتہائی بڑھ سکتے ہیں، اگرچہ وہ ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو خود کو جنگی دور کے ایک ‘مضبوط اور نڈر رہنما’ کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو امریکی دباؤ کے باوجود اسرائیل کی سلامتی کا دفاع کر سکتا ہے۔ یہی وہ واحد حکمت عملی ہے جسے وہ اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے اور اقتدار میں برقرار رہنے کا آخری ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، واشنگٹن کے ساتھ بڑھتی ہوئی یہ خلیج خود اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔