امریکہ ایران تاریخی امن معاہدہ: پاکستان کے کلیدی کردار پر عالمی رہنماؤں کا خراجِ تحسین

پاکستان کی مداخلت نے عالمی مالیاتی اور توانائی کے نظام کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ، عالمی رہنما

June 15, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد : عالمی سفارت کاری کے میدان میں پاکستان کو ایک بے مثال اور تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تباہ کن جنگ کے خاتمے اور امن کے تاریخی معاہدے کی کامیابی پر عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستان کی انتھک ثالثی اور کلیدی کردار کو بھرپور انداز میں سراہا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اس تاریخی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان جمعہ 19 جون 2026 کو جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں اس تاریخی امن معاہدے کی باضابطہ تقریبِ دستخط کی میزبانی کرے گا۔ یہ معاہدہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی 107 روزہ ہولناک جنگ کا مستقل اور فوری خاتمہ کرے گا، جس نے دنیا کو شدید توانائی اور معاشی بحران میں مبتلا کر دیا تھا۔

ترکیہ: صدر رجب طیب اردوان نے اسلام آباد کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کی “غیر معمولی ثالثی” کی تعریف کی اور قطر و سعودی عرب کے تعمیری تعاون کا بھی تذکرہ کیا۔

برطانیہ: وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس بریک تھرو کا خیرمقدم کیا اور جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ پاکستان اور قطر کے ثالثوں کو مبارکباد پیش کی۔

چین: وزارتِ خارجہ نے پاکستان کی مستقل مزاجی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے دو سخت حریفوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔

اقوامِ متحدہ: سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے پاکستان اور علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے پرامن حل کے لیے ایک اہم ترین قدم قرار دیا۔

دیگر ممالک: اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی، جاپانی وزارتِ خارجہ سمیت کینیڈا، آسٹریلیا، کویت، نیوزی لینڈ اور نیدرلینڈز نے بھی شکریہ کے پیغامات بھیجے، جن میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستان کی مداخلت نے عالمی مالیاتی اور توانائی کے نظام کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس کامیاب صلح کاری کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ کا ایک بے مثال کارنامہ قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان 8 اپریل کو ابتدائی جنگ بندی کرانے کے بعد سے مسلسل کام کر رہا تھا، یہاں تک کہ اپریل میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کے درمیان ایک انتہائی حساس اور اعلیٰ سطح کی ملاقات کی میزبانی بھی پاکستان نے کی تھی۔

وزیرِ اعظم نے واضح طور پر ملک کی اعلیٰ فوجی قیادت کا شکریہ ادا کیا، اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی غیر معمولی ہمت اور اس وقت بھی مذاکرات کو زندہ رکھنے کے عزم پر خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا جب بات چیت بار بار ختم ہونے کے کنارے پر پہنچ چکی تھی۔

شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ یہ امن معاہدہ عملاً بند آبنائے ہرمز کو کھول دے گا، لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روک دے گا، اور پاکستان کو صرف ایک عام علاقائی ملک کے طور پر نہیں، بلکہ عالمی امن کے ایک لازمی محافظ کے طور پر سامنے لائے گا۔