صومالی لینڈنے یروشلم میں سفارت خانہ کھول دیا۔اوآئی سی کی مذمت

اقدام غیرقانونی، اقوام متحدہ چارٹر اور قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔اسلامی ملکوں کی تنظیم

June 16, 2026 · بام دنیا

 

صومالی لینڈ نے یروشلم میں اپنا سفارت خانہ کھول دیا ہے۔یہ بات اسرائیل کی وزارت خارجہ نے بتائی۔ وزیر خارجہ گیڈون سار نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ مجھے اپنے عزیز دوست صدر عبدالرحمان محمد عبداللہی کے تاریخی دورے کے دوران ان کا استقبال کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جب انہوں نے یروشلم میں صومالی لینڈ میں سفارت خانے کا افتتاح کیا۔

گیڈون سار نے یہ بھی لکھا کہ میرے لیے یہ بھی فخر کی بات ہے کہ مجھے اسرائیل اور صومالی لینڈ کے درمیان تعلقات کی تاریخ کے پہلے صفحات لکھنے کا موقع ملا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے علیحدگی اختیار کرنے والے افریقی ملک کو تسلیم کیے جانے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیل پہلا ملک ہے جس نے صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم کیا ۔ 1991 میں خانہ جنگ کے بعد صومالیہ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے صومالی لینڈ نے اپنی خودمختاری کا اعلان کیا تھا۔

یہ صدر عبدالرحمان کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔

اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم او آئی سی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں سفارت خانہ کھولنے کے اقدام کی سخت مذمت کی گئی ہے۔یہ اقدام غیرقانونی، اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

او آئی سی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ قابض اسرائیل یروشلم پر حکومت کا حق نہیں رکھتا اور اس کی سیاسی، قانونی یا ڈیموگرافک حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کیے گئے تمام فیصلے اور اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت کالعدم اور بے اثر ہیں۔

صومالی لینڈ آٹھواں ملک ہے جس نے یروشلم میں اپنا سفارت خانہ کھولا ہے۔ اس سے پہلے جن ممالک نے وہاں سفارت خانے کھولے ان میں امریکہ، گوئٹے مالا، ہندوراس، کوسووو، پاپوا نیو گنی، پیراگوئے اور فجی شامل ہیں۔