جرمانےزیادہ ہونے چاہییں تاکہ لوگ قانون توڑنے سےڈریں،ڈی آئی جی ٹریفک کراچی
ای ٹکٹنگ سے حادثات، اموات اور زخمیوں کی شرح میں نمایاں کمی
فائل فوٹو
کراچی کے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ جرمانے اتنے زیادہ ہونے چاہییں کہ لوگ قانون توڑنے سے ڈریں، گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 5 ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیر محمد شاہ نے کہا کہ ای ٹکٹنگ کے لیے مقامی سافٹ ویئر صرف 6 ماہ میں مکمل کیا گیا اور نوجوان افرادی قوت کو اس جدید نظام کے استعمال کی خصوصی تربیت دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے گزشتہ سال اکتوبر میں ای ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 5 ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال 445 حادثات رپورٹ ہوئے تھے ۔اس سال اب تک 308 حادثات پیش آئے ہیں۔ اسی طرح ٹریفک حادثات میں اموات کی تعداد 445 سے کم ہو کر 345 رہ گئی ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ گزشتہ سال بڑی گاڑیوں کے 155 حادثات رونما ہوئے تھے۔ اس سال اب تک 75 بڑے حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے، جو گزشتہ سال 886 تھی ۔رواں سال اب تک 569 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیمرہ مانیٹرنگ کے نظام کی بدولت شہریوں کے رویوں اور مزاج میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ پہلے سیٹ بیلٹ پہننے کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا، لیکن اب ٹیکسی ڈرائیور بھی مسافر کو سیٹ بیلٹ لگوائے بغیر گاڑی چلانے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بچے بھی ٹریفک قوانین کے حوالے سے دہرے رویوں کو دیکھ کر پریشان ہوتے تھے، اس لیے قانون پر یکساں عملدرآمد ضروری ہے۔
پیر محمد شاہ نے کہا کہ 1970 کی دہائی میں کراچی کے ٹریفک نظام کی مثالیں دی جاتی تھیں لیکن گزشتہ 4 دہائیوں میں ٹریفک مینجمنٹ کا نظام تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک فلو یونٹ اور ٹریفک ڈرون یونٹ متعارف کرایا گیا، جسے 70 فیصد لوگوں نے دل سے قبول کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر کوئی رعایت نہیں دی جاتی اور موٹر سائیکل کا کم از کم چالان ڈھائی ہزار روپے ہے۔ یہ جرمانے حکومت سندھ کی جانب سے قانون سازی کے بعد نافذ کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر شہری ہیلمٹ پہنیں تو انہیں کبھی چالان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ دنیا بھر میں جرمانے اس لیے زیادہ رکھے جاتے ہیں تاکہ لوگ قانون شکنی سے گریز کریں۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے مزید کہا کہ ٹریفک فلو یونٹ کا قیام ٹریفک جام سے نجات دلانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ تجاوزات اکثر ٹریفک جام کا سبب بنتی ہیں، اسی لیے 34 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑک پر غلط پارک کی گئی گاڑیوں کے خلاف بھی ٹریفک فلو یونٹ کارروائی اور چالان کرتا ہے۔ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے قانون کی پاسداری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔