امریکا نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود نہ ہوتا، ٹرمپ
اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس پر جہنم ڈھا دیں گے ،امیر قطر تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کے دوران گفتگو
جنیوا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل بہت پہلے تباہ ہوجاتا اگر میں مداخلت نہیں کرتا۔ امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود نہیں ہوتا۔
تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امیر قطر تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس پر جہنم ڈھا دیں گے۔ ایران کے ساتھ کیا گیا معاہدہ کامیاب ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جو ڈیل ہوئی وہ انتہائی اہم ہے، روس کو بھی یو کرین کے ساتھ معاہدہ کر لینا چاہئے، اسرائیل کا بیروت پر حملہ مجھے بالکل پسند نہیں آیا، اسرائیل نے جس طرح لبنان کے معاملے کو ڈیل کیا اس سے خوش نہیں، اسرائیل کا لبنان سے متعلق معاملہ ختم نہیں ہو رہا مزید بڑھتا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ قطر کے لوگوں نے بہادری کا ثبوت دیا ہے، اوباما ڈیل کی خامیوں کے باعث ایران جوہری طاقت بنانے والا تھا، ایران معاہدہ متاثر نہیں ہوگا چاہے خطے میں کشیدگی بڑھ بھی جائے، لبنان میں جاری صورتحال نسبتاً چھوٹا تنازع ہے، اصل مسئلہ ایران کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ خطے میں مسلسل تناؤ کی بڑی وجہ ہے، لبنان میں کشیدگی کو معمولی جنگ سمجھتے ہیں، ایران معاہدہ مشرق وسطیٰ میں بڑے استحکام کا باعث بن سکتا ہے، سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں تاکہ خطے میں مزید جنگ سے بچا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال سے ایران سے منصفانہ ڈیل ہوئی ہے۔ ہم ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کررہے۔ علاوہ ازیں قطر نے جس طرح معاملات کو سنبھالا، میں اس سے خوش ہوں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ میرے لیے سب سے اہم یہی ہے کہ ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہونگے.
ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو بول دیا ہے کہ مجھے بیروت پر حملہ پسند نہیں آیا۔ نیتن یاہو سے اچھے تعلقات ہیں۔ اسرائیل کو تجویز دی ہے کہ حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کو سونپی جائے۔ ایران کے پاس اب معقول قیادت ہے جبکہ لبنان جنگ کو معمولی تنازع سمجھتا ہوں۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ لبنان میں کسی بھی ممکنہ اسرائیلی حملے کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے۔