پنجاب بجٹ،تنخواہوں میں7، پنشن میں ساڑھے 3 فیصد اضافہ تجویز، اپوزیشن کا شور شرابہ

اپوزیشن اراکین بینرز لے کر ایوان میں پہنچ گئے اور حکومت مخالف نعرے لگانے لگے۔

June 16, 2026 · اہم خبریں, قومی
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

لاہور: وزیرخزانہ پنجاب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان بجٹ تقریرکررہے ہیں اور اس دوران اپوزیشن شور شرابہ کررہی ہے ۔

وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز بھی ایوان میں موجود ہیں۔

اپوزیشن اراکین بینرز لے کر ایوان میں پہنچ گئے اور حکومت مخالف نعرے لگانے لگے۔

اپوزیشن ارکان نے “شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو” کے نعرے لگائے جبکہ ان کے ہاتھوں میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی موجود تھے۔

وزیرخزانہ نے بتایاکہ بجٹ کا حجم 5903 ارب 46 کروڑ روپے تجویز کیاگیا ہے ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیاگیا ہے ، تنخواہوں کا خرچ 1.4 فیصد بڑھ کر 638ارب93 کروڑ روپے ہوگا۔

وزیرخزانہ نے بتایاکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ تجویز کیاگیا ہے ، پنشن اخراجات 500 ارب 12 کروڑ روپے ہوں گے ۔

بلدیاتی اداروں کے لیے 803ارب 88 کروڑ روپے مختص

انہوں نے مزید بتایاکہ بلدیاتی اداروں کے لیے 803ارب 88 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، کرنٹ کپیٹل اخراجات کی مد میں 679ارب ایک کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں، رواں مالی سال کے دوران پراپرٹی ٹیکس کے لیے ای پیمنٹ لازمی قراردی گئی، الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی چھوٹ 95 سے بڑھا کر99 فیصد کردی گئی ۔

کلینک آن وہیلز کیلئے 3 ارب 85 کروڑ روپے مختص

وزیر خزانہ پنجاب کہا ہے کہ شعبہ صحت کے لیے مجموعی بجٹ کا 10 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کلینک آن وہیلز منصوبے کے لیے 3 ارب 85 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پنجاب میں ایئر ایمبولینس سروس بھی چلائی جا رہی ہے۔

مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت شہریوں کو گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام

وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، انہوں نے بتایا کہ 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیا گیا، جس سے اب تک 5 ہزار نوجوان مستفید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام میں 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ مزید نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ کے مطابق سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اس پروگرام پر ایک ارب 44 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اب تک 2 ہزار 200 افراد اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کی فنی صلاحیتوں میں اضافے، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی فراہمی کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،”اسکلز فار گلوبل نیڈز” پروگرام کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو تربیت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 بین الاقوامی معیار کے تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے،اسکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر اضافے کی توقع ہے۔

ٹیک سکلز پروگرام

وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم اور انکیوبیٹرز کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت فراہم کی جائے گی، 60 لاکھ افراد کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

انوویٹ پنجاب پروگرام کے تحت 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی، ٹیکنالوجی پروگراموں میں خواتین کی شرکت کم از کم 40 فیصد یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر اسپیسز کے ذریعے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان مستفید ہوں گے، بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کی جائیں گی، پروگرام کے تحت نوجوانوں کی متوقع ماہانہ آمدن ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

لاہور میں سینٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، آٹوموٹیو ٹیکنالوجی سینٹر کے قیام پر 99 کروڑ روپے لاگت آئے گی، سینٹر میں ہر سال 400 افراد کو بین الاقوامی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی، حکومت پنجاب نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،

اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام

وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پنجاب میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے کے تحت جدید ڈیجیٹل سکیورٹی نظام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے، وزیراعلیٰ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کے تحت تحصیل سطح تک نگرانی کے جدید نظام متعارف کرائے جائیں گے، جبکہ ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور پی پی آئی سی منصوبوں کے ذریعے جدید سکیورٹی انفراسٹرکچر بھی قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 47 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے سکیورٹی اور نگرانی کے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، جن کے تحت ڈیٹا اینالیٹکس، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور جدید کیمروں پر مشتمل مربوط نظام کو فروغ دیا جائے گا، ان اقدامات کا مقصد جرائم کی روک تھام، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق سمارٹ سیف سٹیز منصوبوں سے پنجاب کے 19 اضلاع اور متعدد تحصیلیں مستفید ہوں گی، جبکہ جدید نگرانی کے نظام سے صوبے کی بڑی آبادی کو فائدہ پہنچے گا، کچے کے علاقوں میں پولیس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے نئے پولیس اسٹیشنز، پولیس پوسٹس اور پولیس پکٹس کی تعمیر کی تجویز دی گئی ہے۔

مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ صوبے کے 28 اضلاع میں جدید کرائم سین یونٹس قائم کیے جائیں گے، جن پر 14 ارب 21 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، ان یونٹس کے ذریعے جرائم کے شواہد کا سائنسی بنیادوں پر حصول، تجزیہ، تحفظ، ذخیرہ اور منتقلی بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنائی جائے گی، جس سے تفتیشی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔