ڈرونز اور سنائپرز سے وائٹ ہاؤس پر حملے کا منصوبہ ناکام ، 5 افراد گرفتا
پانچوں ملزمان کو چار مختلف ریاستوں سے گرفتار کیا گیا، ان سب پر قتل کی سازش کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ۔ہیں۔
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف اور فیڈرل بیورو آف انویسٹگیشن (ایف بی آئی) نے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے ایک بڑے ‘یو ایف سی’ (UFC) ایونٹ کو نشانہ بنانے کی ہولناک سازش کو بروقت ناکام بناتے ہوئے 5 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کا مقصد ڈرون حملوں اور فائرنگ کے ذریعے بڑے پیمانے پر قتل عام کرنا اور وائٹ ہاؤس کے دروازے پر دھاوا بولنا تھا۔
عدالتی دستاویزات اور پروٹوسکیوٹرز کے مطابق، اس خوفناک منصوبے کے تحت بارود سے بھرے ڈرونز کے ذریعے وائٹ ہاؤس کی قریبی عمارتوں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ سازش کاروں کا مقصد ڈرون دھماکوں کے ذریعے وہاں موجود ہزاروں افراد کے ہجوم میں خوف و ہراس اور انتشار پھیلانا تھا تاکہ بھاگتے ہوئے لوگ سیدھے ان کی ‘سنائپر ٹیم’ کی زد میں آ جائیں، جہاں ‘اہم اہداف’ پر براہِ راست فائرنگ کی جانی تھی۔ اس خونریزی کے بعد حملہ آوروں کی ایک ‘دوسری لہر’ کو وائٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر دھاوا بول کر وہاں قبضہ کرنا تھا۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کش پٹیل نے سوشل میڈیا پر اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ‘کئی ریاستوں میں کی جانے والی ایک مربوط کارروائی’ تھی، جس کے نتیجے میں مبینہ حملوں کے اس ہولناک منصوبے کو وقت سے پہلے ہی روک دیا گیا ہے۔
تفتیش کاروں کے مطابق، اس سازش کا سراغ گذشتہ ہفتے اوہائیو سے ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد ملا۔ ملزم کے موبائل فون اور دیگر آلات سے حاصل ہونے والے خفیہ پیغامات کے جائزے سے دیگر ریاستوں میں موجود شریکِ جرم ساتھیوں کا پتہ چلا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، گرفتار کیے گئے تمام ملزمان ‘شدت پسند مذہبی اور حکومت مخالف خیالات’ کے حامل ہیں۔
ملزمان کی شناخت 19 سالہ ٹائسن سی پراپر (اوہائیو)، 24 سالہ برائن عمر روآ اور 32 سالہ مائیکل ایلن تھامس (کیلیفورنیا)، 32 سالہ ڈینیئل کے ایسکریج (میسوری) اور 31 سالہ ابراہام ہرموسیلو الواریز (نیبراسکا) کے ناموں سے ہوئی ہے۔
محکمۂ انصاف کے مطابق انھیں چار ریاستوں میں گرفتار کیا گیا اور ہر ایک پر قتل کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔