حزب اللہ کی مدد کا الزام: امریکا کی متعدد لبنانی حکام اور کاروباری نیٹ ورک پر پابندیاں
لبنان، شام، عراق اور عمان میں موجود ایسے افراد کو نامزد کیا گیا ہے جو حزب اللہ کے لیے مالی وسائل جمع کر رہے تھے، امریکی انتظامیہ
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی حکومت نے لبنان کے امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور عسکری تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں میں تاخیر کرنے کے الزام میں کئی لبنانی عہدیداروں پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ اور وزارت خزانہ کے مطابق، ان پابندیوں کا نشانہ بننے والے لبنانی حکام مبینہ طور پر حزب اللہ کے حامی ہیں اور پہلے سے بلیک لسٹڈ ‘علاء حسن حمیہ’ بزنس نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ نیٹ ورک لبنان میں امن و استحکام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کے ماتحت ادارے ‘آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول’ (OFAC) نے وضاحت کی ہے کہ ان پابندیوں کا دائرہ کار صرف لبنان تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں خطے کے دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔
امریکی رپورٹ کے مطابق لبنان، شام، عراق اور عمان میں موجود ایسے افراد کو نامزد کیا گیا ہے جو حزب اللہ کے لیے مالی وسائل جمع کر رہے تھے۔یہ افراد مبینہ طور پر فرنٹ کمپنیاں (جعلی یا غیر حقیقی تجارتی ادارے) چلا رہے تھے تاکہ حزب اللہ کے لیے ریونیو (آمدن) پیدا کی جا سکے۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کو توڑنا اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق، امریکا خطے میں پائیدار امن کے قیام اور لبنانی اداروں کو بیرونی یا غیر ریاستی عناصر کے اثر سے آزاد دیکھنے کا خواہاں ہے۔