مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی حکام کو امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی اجازت دے دی
امریکہ حد سے زیادہ مطالبات کرے گا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا امریکہ ایران معاہدے پر رد عمل سامنے آگیا، ایک بیان میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکہ سے مفاہمتی یادداشت پر ان کا مؤقف مختلف تھا۔
انہوں نے کہا کہ صدر پزشکیان اور سپریم نیشنل کونسل کی اتفاق رائے پر اسکی منظوری دی، براہِ راست مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دشمن کے مؤقف کو تسلیم کر رہے ہیں۔
جمعرات کی شام کو ایرانی میڈیا نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر ملک کے رہبرِ اعلی مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک بیان نشر کیا ہے۔
اس پیغام کے متن کے مطابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی تھی، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ صدر مسعود پزشکیان نے انھیں بتایا ہے کہ اگر امریکہ حد سے زیادہ مطالبات کرے گا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
اپنے اس پیغام میں خامنہ ای نے بالواسطہ طور پر ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی اجازت بھی دی اور کہا کہ’آئندہ ہونے والے براہِ راست مذاکرات کا مقصد دشمن کے مؤقف کو تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔