امریکہ کی حزب اللّٰہ سے منسلک افراد۔ اداروں پر نئی پابندیاں

مالی معاونت اور سیاسی حمایت کے الزامات پر کارروائی۔ امریکی شکنجہ مزید سخت

June 19, 2026 · بام دنیا

امریکہ نے حزب اللّٰہ سے مبینہ تعلق رکھنے والے متعدد افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان پر تنظیم کے لیے مالی معاونت اور سیاسی حمایت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ پابندیوں کا مقصد حزب اللّٰہ کے مالیاتی نیٹ ورک کو محدود کرنا اور اس کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنا ضروری ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے حزب اللّٰہ کی سیاسی کونسل کے نائب سربراہ محمود قماطی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ محکمہ خزانہ کا دعویٰ ہے کہ محمود قماطی ایران سے مالی وسائل کی منتقلی میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

اسی طرح لبنانی سیاسی جماعت مارادا موومنٹ کے سربراہ سلیمان فرنجیہ پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان پر حزب اللّٰہ کے سیاسی اتحاد اور مفادات کی حمایت کا الزام ہے۔

پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور اداروں کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کیے جا سکیں گے، جبکہ ان کے ساتھ مالی لین دین کرنے والے بینکوں اور دیگر اداروں کو بھی ممکنہ قانونی کارروائی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔