خیبرپختونخواکا بجٹ پیش:ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ ، کم سے کم اجرت 45 ہزار روپے مقرر

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن نے نعرے بازی اور شور شرابا شروع کردیا۔

June 19, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور:خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا دو ہزار 122 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا، جس میں 48 ارب روپے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ  کم سے کم اجرت 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز شامل ہے۔

اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت خیبرپختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن نے نعرے بازی اور شور شرابا شروع کردیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس دوران ہدایت کی کہ اپوزیشن ارکان پانی پلائیں اور انہیں کہیں حوصلہ رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا بہترین اسپتال میں علاج ہو اور ان کی ملاقاتیں بحال کی جائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان سے ملاقات نہ ہونے تک کوئی گرانٹ بھی فائل نہیں ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار مسلسل تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے جبکہ مزمل اسلم نے بہترین انداز میں فنانس کو چلایا ہے۔انہوں نے تمام پارلیمنٹرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب نے دن رات بجٹ پر کام کیا ہے۔

سہیل آفریدی نے بتایا کہ 92 ایم پی ایز نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ بجٹ پیش کیا جائے گا، جو 48 ارب روپے کے خسارے کے ساتھ پیش ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا  48ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش ہو گا، وفاقی حکومت کیلئے کوئی گرانٹ نہیں ہو گی۔مزمل اسلم  نے بہترین انداز میں فنانس کو چلایا ہے۔ 48ارب روپے کسی سے قرض نہیں مانگیں گے، اپنے وسائل سے پورے کریں گے۔ جب تک ہمارے لیڈر عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جاتی، تب تک کوئی گرانٹ فائل نہیں ہو گی۔

اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے کہا  امن و امان کے لیے 191 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، گڈ گورننس اقدامات کے لیے 19.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صحت کارڈ کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، زمونگ کور کمپلیکسز کے لیے 1.1 ارب روپے مختص ہیں، خواجہ سراؤں کی فلاح کے لیے 100 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح  سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کے لیے 14 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

زیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مزید کہا  ایم ٹی آئی ہسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نئے جنرل ہسپتال کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، پشاور بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ  بی آر ٹی کے لیے 7.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں مالی سال بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کےلیے4.29 ارب روپے جاری کیے گئے جبکہ نئے بجٹ میں ضلعی حکومتوں کے لیے 52.8 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے 29 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ضم شدہ اضلاع میں اے آئی پی کی مد میں 52 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔بیرونی امداد اور قرضوں کی مد میں 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 5 ارب 18 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جاری اخراجات کے لیے 1 ہزار 645 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سہیل آفریدی نے بتایا کہ بجٹ میں اقلیتی برادری کی خود کفالت کے لیے 51 ملین اور احساس کسان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے اور بیرون ملک روزگار کے خواہش مند افراد کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے لیے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔الیکٹرک بائیکس اور رکشہ منصوبے کے لیے 2.5 ارب روپے، صحت کے لیے مجموعی طور پر 334 ارب، تعلیم کے لیے 468 ارب روپے اور محکمہ بلدیات کے لیے 90 ارب، محکمہ داخلہ کے لیے 29 ارب اور ٹرانسپورٹ کے لیے 14 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔صوبائی بجٹ میں زراعت کے لیے 29 ارب، توانائی کے لیے 42 ارب اور زکوٰۃ کے لیے 28 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔