چینی اے آئی کمپنی زیڈ اے آئی نے جمنائی سے زیادہ طاقت ور ماڈل سستے میں پیش کردیا ، مغربی اجارہ داری کو خطرہ
Z AI کو 2019 میں سنگھوا یونیورسٹی کے اسپن آف کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور یہ پہلے Zhipu AI کے نام سے جانی جاتی تھی
بیجنگ ۔ چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنی Z AI نے اپنا نیا فلیگ شپ ماڈل GLM-5.2 متعارف کرا دیا ہے، جس کے بارے میں کمپنی اور بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ جدید ترین مغربی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور کم قیمت متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق Z AI نے 2019 میں سنگھوا یونیورسٹی سے بطور اسپن آف آغاز کیا تھا اور ابتدائی طور پر یہ Zhipu AI کے نام سے جانی جاتی تھی۔ بعد ازاں عالمی مارکیٹ میں توسیع کے بعد کمپنی نے اپنی برانڈنگ Z AI کے نام سے کی۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی نے جنوری 2026 میں ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او مکمل کیا، جس کے بعد اس کی مارکیٹ ویلیو 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
نئے ماڈل GLM-5.2 کو کمپنی کا جدید ترین لینگویج ماڈل قرار دیا جا رہا ہے، جس میں ایک ملین ٹوکن تک سیاق و سباق کو سمجھنے کی صلاحیت، 753 ارب پیرامیٹرز، اور طویل ڈیٹا پروسیسنگ کی بہتر کارکردگی شامل ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل کوڈنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور خودکار ایجنٹ سسٹمز کے لیے خاص طور پر بہتر بنایا گیا ہے، جبکہ اس کی کارکردگی بعض بینچ مارکس میں جدید مغربی ماڈلز کے قریب یا ان سے بہتر رہی ہے۔
ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق GLM-5.2 جیسے ماڈلز کی کم قیمت اور اوپن سورس دستیابی سے عالمی اے آئی مارکیٹ میں مقابلہ مزید بڑھ سکتا ہے اور مغربی کمپنیوں کی “اجارہ داری” کو چیلنج درپیش ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی انڈسٹری میں تیزی سے بڑھتا ہوا مقابلہ نہ صرف قیمتوں پر اثر ڈال رہا ہے بلکہ جدید ماڈلز کی ترقی کی رفتار بھی تیز کر رہا ہے۔