امریکہ ایران تکنیکی مذاکرات انتہائی مشکل ہوں گے۔ ماہر

جوہری معاملے، پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں پر اختلافات برقرار ہیں۔

June 22, 2026 · بام دنیا

اٹلانٹک کونسل کے سینیئر فیلو تھامس وارک کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات “بہت مشکل” ہوں گے اور ممکن ہے کہ یہ عبوری معاہدے میں شامل 60 دن کی مدت سے بھی زیادہ وقت لے جائیں۔

تھامس وارک نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاملے پر معاہدہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے معاملے پر بھی اتفاق نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال ایسی ہے کہ ایک فریق وہ چیز دیتا ہے جو دوسرے فریق کی سب سے بڑی خواہش ہے، جبکہ بدلے میں اسے وہ چیز ملتی ہے جو اس کی اپنی ترجیح ہے۔

ایران کے جوہری معاملے پر بات کرتے ہوئے وارک نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ افزودہ یورینیم کو ختم کرنا یا اس کی سطح کم کرنا ہے، جس کے لیے ممکنہ طور پر ہزاروں افراد، جن میں تقریباً ایک ہزار امریکی بھی شامل ہوں گے، کو ایران کی حساس ترین جوہری تنصیبات میں جانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے افزودہ یورینیم ذخیرے کو کم کرنے کے عمل میں اپنا کردار چاہتا ہے، تاہم “میں تصور نہیں کر سکتا کہ ایران اس خیال سے خوش ہوگا۔

وارک نے مزید کہا کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ بھی آسان نہیں ہوگا، خاص طور پر وہ پابندیاں جو امریکی کانگریس نے عائد کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “کانگریس اس وقت اس معاہدے سے بہت ناخوش ہے، اور یہ واضح نہیں کہ وہ ان پابندیوں کو ختم کرنے پر رضامند ہوگی جن کے خاتمے کا ایران مطالبہ کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تکنیکی مذاکرات مشکل ہوں گے، بلکہ یہ واقعی انتہائی پیچیدہ ہیں اور بعض معاملات پر گفتگو اگلے 60 دن سے آگے بھی جاری رہ سکتی ہے۔