ایران کابحرین میں امریکی تنصیبات پرجوابی ڈرون حملہ

امریکی تنصیبات پر جوابی کارروائی، خطے میں صورتحال دوبارہ کشیدہ

June 27, 2026 · بام دنیا

فائل فوٹو

جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر خطے میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی تنصیبات پر ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران میں ساحلی ریڈار، میزائل اور ڈرون سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر حملہ کیا، جس کے بعد امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس پر کارروائی کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے ہفتہ کی صبح اس کی سرزمین پر متعدد ڈرون حملے کیے جو اس کی قومی سلامتی اور خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

خیال رہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا صدر دفتر بھی قائم ہے اور ایران نے اسی مقام کو امریکا کے فضائی حملوں کے جواب کے طور پر نشانہ بنایا۔

جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی اس کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک بڑے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا اور چار جہازوں پر میزائل حملے کیے، جن میں سے کچھ کو امریکی فوج نے فضا میں ہی تباہ کیا۔

اس کے بعد امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں، ساحلی ریڈار اور نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کی امریکی فوج نے تصدیق بھی کی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایران کے دفاعی نظام نے امریکی میزائل اور ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیریک میں ایک گولا گرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔