خلیج میں کشیدگی: قطر کا تمام غیر تجارتی بحری جہازوں اور کشتیوں کی نقل و حرکت معطل کرنے کا حکم
بین الاقوامی بحری کنونشنز کے دائرہ کار میں آنے والے بڑے تجارتی جہاز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے،اپنا آپریشن جاری رکھ سکیں گے۔قطری حکام
فائل فوٹو
دو حہ : خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر قطر نے ملک میں تمام غیر تجارتی اور تفریحی بحری سرگرمیاں فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
قطری وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ایک پبلک سیفٹی نوٹس میں تمام مالکان اور صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تفریحی کشتیوں، ماہی گیری کی کشتیوں (لانچوں)، جیٹ اسکیز اور دیگر تمام چھوٹی و بڑی بحری گاڑیوں کی سیلنگ (سفر) اور ہر قسم کی سمندری سرگرمیوں کو تاحکمِ ثانی فوری طور پر روک دیں۔
وزارت کے مطابق یہ عارضی اور احتیاطی اقدام متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے بعد پبلک سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ تاہم بین الاقوامی بحری کنونشنز کے دائرہ کار میں آنے والے بڑے تجارتی جہاز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے اور مروجہ قوانین کے مطابق اپنا آپریشن جاری رکھ سکیں گے۔
قطر کا یہ ہنگامی فیصلہ اتوار کے روز بحرین اور کویت پر ہونے والے ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جو امریکہ کی جانب سے ایرانی اہداف پر کی جانے والی فضائی کارروائیوں کا ردعمل تھے۔ خلیجی خطے میں اس وقت امریکہ اور ایران کے مابین شدید فوجی تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی الرٹ سے قبل قطر کی جانب سے باقاعدہ تصدیق کی گئی تھی کہ اتوار کو ساحل کے قریب لاپتہ ہونے والی ایک مقامی کشتی پر سوار قطری شہری علاقے میں جاری “فوجی کارروائیوں” کے نتیجے میں لگنے والے شاپنل (گولہ بارود کے ٹکڑوں) کی زد میں آکر جاں بحق ہو گیا ہے۔ واقعے میں ایک اور شخص زخمی بھی ہوا ہے جو اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
قطری حکام نے عوام اور بحری سرگرمیوں سے وابستہ افراد پر زور دیا ہے کہ وہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اس حکم نامے پر سختی سے عمل درآمد کریں، جبکہ مزید کسی بھی قسم کی اپڈیٹ سرکاری ذرائع سے فراہم کی جائے گی۔