موبائل فون جوکروں کی روزی کھا گئے
بچے سرکس میں مسخروں اور کرتب بازوں کے شوز میں دلچسپی ترک کرچکے- سڑکوں پر کھڑے ’’اسپائیڈر مین‘‘- ’’سلور مین‘‘ اور دیگر کردار بھی توجہ حاصل کرنے میں ناکام
فائل فوٹو
اقبال اعوان :
کراچی میں اینڈرائیڈ موبائل فون جوکروں کی روزی کھا گئے ہیں۔ سرکس سے شروع ہونے والے جوکر، شاپنگ مالز کے بعد سڑکوں پر آکر دیہاڑی کی کوشش کرتے رہے۔ تاہم شہریوں اور بچوں کی عدم دلچسپی نے ان کو دوسرے کام ڈھونڈنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سرکس جو کراچی میں عید کے دنوں میں دو، چار دن لگتا تھا، اس دوران جوکر اور کرتب باز بچوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اب گولڈن مین، سلور مین اور اسپائیڈر مین کے کردار بھی سڑکوں پر ناکام ہوگئے۔ مکی مائوس اور دیگر انسان دوست جانوروں کی کھال نما کپڑے پہن کر مزاحیہ حرکتیں کرنے کا بھی لوگوں پر اثر نہیں پڑا۔ پردیس سے آئے نوجوان زیادہ تر جوکر کا روپ دھارتے ہیں اور بمشکل ہزار بارہ سو روپے میں سارا دن راتوں کو کام کرتے ہیں۔ اب یہ شعبہ زوال پذیر ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا کے دور سے قبل لوگ اپنے بچوں کو سرکس دکھانے لے کر جاتے تھے اور خصوصی ایونٹ جوکر (مسخرہ) دکھاتے تھے جو اوٹ پٹانگ حرکتیں کرکے بچوں کو ہنسانا تھا۔ یہ کردار کرنے والے اپنی روزی روٹی کے اس ذریعہ پر بہت محنت کرتے تھے۔ الٹے سیدھے لباس، چہرے پر میک اپ مختلف رنگوں سے کرتے تھے۔ ناک لال رنگ کی اندر اسپرنگ ڈال کر موٹی دکھاتے تھے دوپہر کے بعد سرکس شروع ہوئی تو ٹکٹ گھر کے قریب لوگوں کو ویلکم کرنے اور اندر کرتب والے ہال میں نظر آتے تھے۔
کراچی میں سرکس سال بھر میں بمشکل چند ہفتوں کے لئے لگتا تھا اور کچی آبادیوں کے مکین زیادہ جاتے تھے۔ آہستہ آہستہ سرکس کے نہ ہونے پر جوکر کچھ عرصے تک سڑکوں، چوراہوں، ٹریفک سگنلز پر نظر آئے۔ اس کے بعد شہر کے بڑے شاپنگ مالز کے مرکزی دروازے پر مکی مائوس، ریچھ اور جوکر نظر آنے لگے۔ اس طرح بچے والدین کو ان شاپنگ مالز میں لے کر جاتے تھے کہ فلاں فلاں میں چلتے ہیں اس طرح ان کی آمدنی بڑھ جاتی تھی اور وہاں بگڑے بچے ان کو مارتے بھی تھے اور تنگ کرتے تھے۔ اس طرح یہاں پر بھی ان کی روزی کم ہوگئی۔
اسلام آباد، لاہور سمیت دیگر شہروں میں گولڈن مین، سلور مین، اسپائیڈر مین کے روپے میں لوگوں نے کراچی میں روزی روٹی کمانے کی کوشش کی۔ تاہم چند افراد بمشکل کامیاب ہوئے۔ تاہم بڑھتی مہنگائی کے بعد جہاں پر طبقہ پریشان ہے۔ وہاں جوکر کی مدد کون کرے گا۔ اور لوگوں کے دلوں اور چہروں پر رونق اور مسکراہٹ لانے والے خود دو وقت کی روٹی کو رونے لگے اور یہ روپ بھی ختم کر دیا گیا۔
شاپنگ مال میں مکی مائوس کا کردار کرنے والے اکبر حسین کا کہنا تھا کہ ’’میرا تعلق وہاڑی پنجاب سے ہے۔ دس سال قبل کراچی روزگار کمانے آیا اور کئی کاموں کے بعد شاپنگ مالز میں ملازم ہوا۔ ان کا مرکزی دروازے پر کھڑا ہونے والا مکی مائوس کا روپ دھارنے والا نوجوان انور بیمار ہوا تو مجھے ذمہ داری سونپ دی گئی۔
والدین کے ساتھ ساتھ آنے والے بچے اسے مارتے بھی ہیں۔ تاہم مجھے کہا گیا ہے کہ بچوں سے بدتمیزی کی تو نوکری سے نکال دیں گے۔ اب سارا دن مکی مائوس والا روپ دھار کر بچوں کو اوٹ پٹانگ حرکتیں کرکے کوشش کرتا ہوں۔‘‘ اس کا کہنا تھا کہ ‘‘اب بچے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور آجکل اتنے کارٹون نئے نئے آتے ہیں کہ ہم تو پرانی صدی کے مسخرے لگتے ہیں۔
بنارس پر لگنے والا سرکس میں جوکر کا کردار کرنے والے محبوب خان کا کہنا تھا کہ آجکل لوگ ان کو خوش ہو کر پیسے (ٹپ) نہیں دیتے ہیں۔ مہنگائی کے مارے ان کو داد تک نہیں دیتے۔ اب مہنگائی بے روزگاری، معاشی مسائل نے لوگوں کو جوکر بنا کر رکھ دیا ہے۔ لوگوں کو ہنسانے والے خود اندر سے روتے ہیں کہ دیہاڑی کا کیا ہوگا۔
ناظم آباد میں گولڈن مین کا کردار کرنے والے رمضان کا کہنا ہے کہ وہ میانوالی کا رہنے والا ہے۔ بوٹ، نیٹ، شرٹ اور ہیڈ (ٹوپی) تک گولڈن رنگ کا اسپرے کرتے ہیں اس طرح سر کی ٹوپی سے پائوں کے بوٹ تک جو رنگ کا اسپرے کرتے ہیں۔ آجکل گرمی کی شدت زیادہ ہے اور جسم کی کھال پر جلن، خارش لگ جاتی ہے آنکھوں کی تکلیف الگ ہوتی ہے اب فائن ہائوس پر اس کا بھائی شاکر یہ کام کرتا تھا۔ تاہم الرجی کی وجہ سے چھوڑ دیا اس کو سارا دن مغرب تک چند سو ملتے ہیں۔
اب لوگ ان کو فنا کار کم گداگری کا نیا طریقہ اپنانے والا بولتے ہیں اور بھیک دینے کے انداز میں دس روپے کا نوٹ آگے پھینک کر چلے جاتے ہیں۔ اب ان کو ساکن (ایک جگہ اسٹائل بنا کر ماڈل ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح اس روزگار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اب مہنگائی اور موبائل ان کے روزگار پر ڈاکہ ڈال گئے ہیں۔