ٹرمپ کو بڑا دھچکا ، سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت محدود کرنے کا حکم نامہ مسترد کر دیا

سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت کو برقرار رکھا ہے، جو ہمارے ملک کے لیے اچھا نہیں،ٹرمپ

فوٹو امریکی میڈیا

فوٹو امریکی میڈیا

 واشنگٹن: امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کا جاری کردہ کا ایک حکم نامہ مسترد کر دیا ہے جس کے تحت تارکینِ وطن کے بچوں کے لیے پیدائشی شہریت کو محدود کیا جانا تھا۔

ججوں نے تین کے مقابلے میں چھ ووٹوں سے پیدائشی شہریت کے حق میں فیصلہ دیا۔

امریکہ کی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس کوشش کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تارکینِ وطن (جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں) کے بچوں کو خودکار شہریت دینے سے انکار کیا جانا تھا۔

صدر اور ان کی قانونی ٹیم نے ایک ایسا مؤقف پیش کیا تھا جسے حالیہ عرصے تک پالیسی سازوں اور قانونی ماہرین کی جانب سے زیادہ حمایت حاصل نہیں تھی، اور اسے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک لے جانا بذاتِ خود ایک غیر معمولی پیش رفت تھی۔

تاہم بالآخر نو ججوں میں سے اکثریت ڈیڑھ سو سال پرانی عدالتی نظیر کو بدلنے اور دیرینہ وفاقی قانون اور امریکی آئین کی زبان کی نئی تعبیر کرنے پر آمادہ نہ ہوئی۔

یہ دھچکا یقیناً صدر کے لیے مایوسی کا باعث بنے گا اور انھیں اس بات پر مجبور کرے گا کہ وہ بغیر دستاویزات والے تارکینِ وطن کے امریکہ میں داخلے کو محدود کرنے کے لیے نئے طریقے تلاش کریں۔ اگر وہ کبھی امریکی سرزمین تک نہ پہنچ سکیں تو ان کے بچوں کی شہریت کا سوال بھی پیدا نہیں ہو گا۔

دوسری جانب سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت کو برقرار رکھا ہے، جو ہمارے ملک کے لیے اچھا نہیں ۔

اپنے بیان میں انھوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ عدالت کے فیصلے کے باوجود کانگریس قانون سازی کے ذریعے پیدائشی شہریت کو محدود کر سکتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم اسے کانگریس میں قانون سازی کے ذریعے آسانی سے بدل سکتے ہیں، صدر کی حمایت کے ساتھ، جس کا تعین اب اس عمل کے دوران ہو چکا ہے۔ کسی طویل اور پیچیدہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں!‘

انھوں نے مزید لکھا ’کانگریس کو آج ہی اس مہنگی اور ہمارے ملک کے لیے غیر منصفانہ پیدائشی شہریت کے خاتمے کے لیے کام شروع کرنا چاہیے۔ انھیں میری مکمل اور بھرپور حمایت حاصل ہوگی۔‘