71 سال پرانا وراثتی تنازع، سپریم کورٹ نے خواتین کے حق میں فیصلہ سنا دیا
وراثت ہر قانونی وارث کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی منتقل ہو جاتا ہے
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے وراثت سے محروم کیے جانے کے مقدمے میں ماتحت عدالتوں کے سابقہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے اور متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نور محمد کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ وراثت ہر قانونی وارث کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی منتقل ہو جاتا ہے، اور اسے کسی فرد کی صوابدید یا مہربانی سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے جعلی ہبہ، فراڈ، خاندانی دباؤ یا روایتی رسم و رواج کو قانونی تحفظ حاصل نہیں۔ ایسے معاملات میں عدالتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیں تاکہ کسی وارث کا حق متاثر نہ ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مقدمے کے ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ والد کے انتقال کے بعد وراثتی جائیداد دو بھائیوں کے نام منتقل کر دی گئی، جبکہ والدہ اور بہنوں کو حصہ نہیں دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ زبانی ہبہ کا دعویٰ کرنے والے فریق پر اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو قانون اور شواہد کے منافی قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی اور ریونیو حکام کو ہدایت دی کہ وراثتی ریکارڈ کو قانون کے مطابق درست کیا جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق محض نظریاتی نہیں بلکہ قابلِ عمل قانونی حقوق ہیں، جن کا تحفظ ریاستی اداروں اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔