خیبر پختونخوا حکومت نے جھیل سیف اللہ کشتی واقعے کی تحقیقات کیلیے انکوائری کمیٹی بنا دی
انکوائری کمیٹی مکمل رپورٹ 7 روز کے اندر حکومت کو پیش کرے، ہدایت
فائل فوٹو
خیبر پختونخوا حکومت نے کالام میں جھیل سیف اللہ کشتی واقعے کی تحقیقات کے لیے 2 رکنی انکوائری کمیٹی قائم کردی۔
انکوائری کمیٹی یہ بھی تحقیقات کرے گی کہ آیا کشتی آپریشن متعلقہ قوانین، اجازت ناموں اور حفاظتی تقاضوں کے مطابق کیا جا رہا تھا یا نہیں۔اس کے علاوہ کشتی چلانے والے کے لائسنس، اہلیت اور قانونی اجازت سے متعلق تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت نے کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق سپیشل سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کو انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جب کہ سپیشل سیکریٹری خزانہ زبیر احمد کمیٹی کے رکن ہوں گے۔کمیٹی کشتی حادثے کے تمام حقائق، واقعات کی ترتیب اور حادثے کی بنیادی وجوہات کا تفصیلی تعین کرے گی، کمیٹی کشتی کی تکنیکی حالت، حادثے کے وقت موسم، آپریشنل صورتحال اور دیگر متعلقہ عوامل کا بھی جائزہ لے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق حادثے کے وقت لائف جیکٹس، ریسکیو سامان اور دیگر حفاظتی انتظامات کی دستیابی اور مؤثر استعمال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا،کمیٹی انتظامی، قانونی اور ریگولیٹری خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تدارک کے لیے اصلاحی اقدامات تجویز کرے گی جبکہ مستقبل میں سیاحتی اور تفریحی مقامات پر ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے جامع سفارشات بھی پیش کرے گی۔
صوبائی حکومت نے انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی مکمل رپورٹ 7 روز کے اندر حکومت کو پیش کرے۔