اسلام آباد میں جعلی سرکاری افسران اور پولیس اہلکاروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ خاتون سمیت متعدد نوسرباز گرفتار

میں علاقہ مجسٹریٹ ہوں، ہوٹل انتظامیہ کی ہوشیاری نے جعلی خاتون افسر کو حوالات پہنچا دیا، کراچی کمپنی سے ریکارڈ یافتہ جعلی پولیس اہلکار بھی پکڑاگیا۔

July 3, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

رپورٹ:وقاص منیر چوہدری

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت میں سرکاری افسران اور پولیس اہلکار بن کر شہریوں کو دھوکہ دینے اور لوٹنے والے عناصر کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن تیز کر دیا۔ ایک ہی روز میں مختلف کارروائیوں کے دوران خود کو علاقہ مجسٹریٹ اور محکمہ فوڈ کی افسر ظاہر کرنے والی خاتون سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جبکہ کراچی کمپنی پولیس نے جعلی پولیس اہلکار بن کر وارداتیں کرنے والے دو ریکارڈ یافتہ ملزمان کو گرفتار کرکے لاکھوں روپے نقدی، اسلحہ اور وائرلیس سیٹ برآمد کر لیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی تھانہ آئی نائن پولیس نے خود کو مجسٹریٹ کا ریڈر ظاہر کرنے والے اسامہ نامی شخص کو گرفتار کیا تھا

تفصیلات کے مطابق ترنول جی ٹی روڈ پر واقع بنو شنواری ہوٹل میں ایک خاتون تین دیگر لڑکیوں کے ہمراہ پہنچی اور خود کو محکمہ فوڈ کی آفیسر ظاہر کرتے ہوئے ہوٹل کے کچن اور کھانے پینے کی اشیا کا معائنہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ہوٹل کے مالک عامر خان کے مطابق انہوں نے خاتون سے محکمانہ شناختی کارڈ یا سروس کارڈ طلب کیا، تاہم وہ کوئی سرکاری شناخت یا متعلقہ دستاویز پیش نہ کر سکی۔

صورتحال مشکوک ہونے پر ہوٹل انتظامیہ نے فوری طور پر 15 پولیس ہیلپ لائن پر اطلاع دی۔درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی مقدمہ نے بیان کیا کہ ترنول میں شنواری ریسٹورنٹ بنوں بیف پلاؤ کے نام سے کاروبار کر رہا ہوں مورخہ 02.07.2026 کو دوپہر کے ٹائم ہمارے ہوٹل پر ایک لیڈیز آئی اپنے آپ کو علاقہ مجسٹریٹ ظاہر کرتے ہوئے اپنا نام راحیلہ رانا بتایا اور چیکنگ شروع کردی۔

میں نے مجسٹریٹ صاحب کے آپریٹر منتظہر مہندی کو کال کی اور اس سے پوچھا کہ یہاں پر علاقہ مجسٹریٹ راحیلہ رانا صاحبہ آئی ہیں تو مجھے منتظہر مہندی نے بتایا کہ وہ کوئی جعلی مجسٹریٹ ہوں گی میں ابھی بھی مجسٹریٹ صاحب ترنول سرکل کے ساتھ ڈیوٹی پر ہوں میں نے 15 پر کال کردی۔

مسماۃ راحیلہ رانا نے اپنے آپ کو جعلی مجسٹریٹ ظاہر کر کے ہمارے ہوٹل میں داخل ہو کر خلاف قانون کام کیا ہے جس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ خاتون کا محکمہ فوڈ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ مبینہ طور پر جعلی فوڈ آفیسر بن کر نوسربازی کی کوشش کر رہی تھی۔

پولیس نے خاتون اور اس کے ساتھ موجود تینوں لڑکیوں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ترنول منتقل کر دیا، دوسرا واقع تھا نہ کراچی کمپنی کی حدود میں پیش آیا جہاں ایس ایچ او ندیم طاہر کی زیرِ نگرانی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دو سابقہ ریکارڈ یافتہ ملزمان کو گرفتار کیا، جو جعلی پولیس ملازم اور سرکاری اہلکار بن کر لوگوں کو لوٹنےمیں متعدد وارداتوں میں مطلوب تھےگرفتار ملزمان کے قبضے سےلاکھوں روپے نقدی اور وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور وائرلیس سیٹ برآمد ہوا ہے۔

ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، جبکہ مزید تفتیش جاری ہےپولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے۔