سانحہ بلدیہ فیکٹری: استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، تفصیلی فیصلہ جاری

تفصیلی فیصلےمیں ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف عدالتی ریمارکس حذف کرنے کا حکم ، سندھ ہائیکورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلےکالعدم قرار دے دیے گئے۔

July 6, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا، جس میں کہا گیا کہ سزائے موت پانے والے 2 ملزمان بری کر دیے۔

استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، ڈھائی سال بعد سامنے آنے والی نئی کہانی قابلِ اعتماد نہیں، تاخیر سے سامنے آنے والے بیانات پر انحصار ممکن نہیں۔

39 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے تحریر کیا، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد نے فیصلے سے اتفاق کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی اعترافِ جرم آزاد شواہد سےثابت نہیں ہوسکا، فارنزک شواہد سے کیمیکل کے استعمال کا دعویٰ ثابت نہ ہوسکا، 34 زخمی گواہوں میں سے کسی نے بھی ملزمان کے خلاف بیان نہیں دیا، سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہ کرنا استغاثہ کے مقدمے کو کمزور کرتا ہے، قیاس آرائیوں اور عمومی الزامات پر سزا برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔ شک کا فائدہ ملزم کا قانونی حق ہے، محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمن عرف بھولا کو بری کیا جاتا ہے۔

تفصیلی فیصلےمیں ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف عدالتی ریمارکس حذف کرنے کا حکم دیتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلےکالعدم قرار دے دیے گئے۔