امریکہ کی آزادی میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان کااہم تاریخی کردار

امریکی جنگِ آزادی، میسور کی مزاحمت نے برطانیہ کو دو محاذوں پر الجھایا

July 7, 2026 · امت خاص

اس مہینے یعنی جولائی 2026 میں امریکہ 250 برس کا ہو گیا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امریکہ کو آزادی دلانے میں برصغیر کے دو اہم مسلمان رہنماؤں کا بھی کردار تھا۔ ان باپ بیٹے کی بہادری کا امریکیوں نے تب بھی اعتراف کیا تھا اور آج بھی کرتے ہیں۔ یہ داستان ہے شیرِ میسور ٹیپو سلطان اور ان کے والد حیدر علی کی، جنہوں نے سات سمندر پار بیٹھے امریکی حریت پسندوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا۔

جب 1776ء میں جارج واشنگٹن برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف امریکہ کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، ٹھیک اسی وقت برطانوی سلطنت کا سامنا دنیا کے دوسرے کونے میں ایک ایسے دشمن سے تھا جس نے انگریزوں کے غرور کو مٹی میں ملا دیا۔ یہ دشمن میسور کے حکمران حیدر علی اور ٹیپو سلطان تھے۔

اینگلو میسور جنگوں میں باپ اور بیٹے کی اس جوڑی نے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کو وہ تاریخی شکستیں دیں جن کی گونج امریکہ تک سنائی دی۔ خاص طور پر 1780ء کی جنگِ پولیلور میں میسور کی فوج نے انگریزوں کو بدترین جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ اس زبردست فوجی مزاحمت کا نتیجہ یہ نکلا کہ برطانوی سلطنت کے پاؤں اکھڑنے لگے اور وہ اپنی پوری فوجی طاقت اور وسائل امریکہ کی جنگ میں جھونکنے سے قاصر رہ گئے۔

امریکہ کے بانیان جیمز میڈیسن اور جان ایڈمز برصغیر سے آنے والی ان خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے اور میسور کی فتوحات سے امریکی فوجیوں کے حوصلے بلند ہو رہے تھے۔ امریکی حریت پسندوں کے دلوں میں حیدر علی کے لیے اس قدر احترام تھا کہ پنسلوانیا کی ریاستی بحریہ نے اپنے ایک نامور جنگی جہاز کا نام ہی “Hyder Ally” رکھ دیا۔ اس جہاز نے بعد میں برطانوی بحریہ کے خلاف کئی اہم معرکے بھی جیتے ۔

فرانس، جو اس وقت امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی تھا، ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف حیدر علی اور ٹیپو سلطان کے ساتھ مل کر لڑ رہا تھا ۔ اس عالمی اسٹریٹجک گٹھ جوڑ نے برطانوی سلطنت کو بیک وقت دو محاذوں پر لڑنے پر مجبور کر دیا، جس کا براہِ راست فائدہ امریکہ کو ملا اور وہ برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہو گیا۔

آج جب امریکہ اپنی آزادی کے ڈھائی سو سال منا رہا ہے، تو تاریخ کے صفحات یہ گواہی دیتے ہیں کہ اگر ہندوستان کی دھرتی پر ٹیپو سلطان اور حیدر علی انگریز فوج کو جکڑ کر نہ رکھتے، تو شاید امریکہ کی آزادی کا خواب اتنی جلدی پورا نہ ہوتا۔