اقتدار منتقلی کی راہ میں اسرائیل رکاوٹ بن رہا ہے۔ حماس
غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کوکام سے روکنے کا الزام،حماس کی ثالث ممالک سےمداخلت کی اپیل
حماس نے اسرائیل پر غزہ میں جان بوجھ کر “انتظامی خلا” پیدا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ٹیکنوکریٹک (غیر سیاسی ماہرین پر مشتمل) قومی انتظامی کمیٹی کو غزہ کا نظم و نسق سنبھالنے سے روک رہا ہے۔
حماس نے کہا کہ یہ اقدام غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی (NCAG) کو اقتدار منتقل کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اٹھایا گیا۔ یہ کمیٹی رواں سال جنوری میں قائم کی گئی تھی، تاہم اسرائیل نے اسے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر اس وقت تک عمل درآمد کی پابند رہے گی جب تک انتظامی اختیارات مکمل طور پر قومی انتظامی کمیٹی کے حوالے نہیں کر دیے جاتے۔
حماس نے مزید الزام لگایا کہ اسرائیل امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے اور غزہ میں ایک ایسا “انتظامی خلا” پیدا کرنا چاہتا ہے جس سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو اور معمول کی زندگی کی بحالی کی کوششیں ناکام ہو جائیں۔
حماس نے بین الاقوامی ثالث ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ اقتدار کی منتقلی کے عمل میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔