3 سے 5 جولائی تک آبنائے ہرمز سے 108 بحری جہاز گزرے۔سیکورٹی خدشات برقرار
آبنائے ہرمز کھلی رہی، مگر جہاز احتیاط کے ساتھ مختلف راستے اختیار کرتے رہے
اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق 3 سے 5 جولائی کے دوران مجموعی طور پر 108 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔
کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس عرصے کے دوران بحری آمدورفت کا زیادہ رخ مشرق سے مغرب کی جانب رہا، جبکہ بیشتر جہاز ایران اور عمان کے بحری راستوں سے گزرتے رہے۔
کپلر کے مطابق بعض بحری جہازوں نے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے منظور شدہ راستوں کے علاوہ ڈارک/نامعلوم روٹس بھی اختیار کیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم جہاز مختلف راستے اختیار کر رہے ہیں اور آپریٹرز احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے 14 بحری جہازوں کی آمدورفت بھی ریکارڈ کی گئی۔
کپلر کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز بدستور بحری ٹریفک کے لیے کھلی ہے، تاہم ڈارک یا نامعلوم راستوں کا نمایاں استعمال اور جون کے آخر میں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے تصدیق شدہ حملوں کے بعد سیکیورٹی، جہاز رانی کے راستوں اور انشورنس سے متعلق خطرات اب بھی بلند سطح پر موجود ہیں۔