ہانیہ ڈاکوؤں کی نہیں، کانسٹیبل کی گولی سے جاں بحق ہوئی، والد کا الزام

زخمی حالت میں بلیک میل کر کے سادے کاغذ پر انگوٹھا لگوایا گیا'، متاثرہ والد نے تھانہ سٹی پولیس کا پول کھول دیا

July 7, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

چکوال: نو سالہ ہانیہ احمد کیس میں آج 7 جولائی کو ایک نیا موڑ اس وقت سامنے آیا جب دن کو ہانیہ احمد کے والد عدیل احمد کی طرف سے ڈسرکٹ پولیس آفیسر کاشف ذوالفقار کو دی گئی درخواست ( جس کی کاپی تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال کے پاس ہے) میں یہ موقف اپنایا گیا کہ ڈاکوؤں نے کوئی فائرنگ نہیں کی تھی بلکہ وقوعہ کانسٹیبل شجاعت کی سیدھی فائرنگ سے پیش آیا تھا اور ایف آئی آر میں ڈاکوؤں کی فائرنگ کا زکر کر کے وقوعے کو تھانہ سٹی کے سب انسپیکٹر احسن عبداللہ نے غلط رنگ دیا۔ آسٹریلیا کی شہریت کی حامل ہانیہ احمد دس جون کی رات چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ تھانے کی دیوار کے ساتھ ڈکیتی کی واردات کے دوران سی سی ڈی کے ایک اہلکار کی فائرنگ کی وجہ سے موقع پر ہی جانبحق ہو گئی تھیں جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور گیارہ سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہوئے تھے۔

عدیل احمد نے ڈی پی او کو دی جانے والی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ جب انہیں تشویش ناک حالت میں ڈسرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لایا گیا تھا تو ہسپتال میں پولیس خدمت کاؤنٹر پر تعینات کانسٹیبل عتیق نے ان کے ساتھ انتہائی بد تمیزی کی تھی۔ جب تھانہ سٹی پولیس ایک سب انسپیکٹر کے ہمراہ ہسپتال پہنچی تو خدمت کاؤنٹر پر تعینات کانسٹیبل اور مذکورہ سب انسپیکٹر نے ان سے سارا واقعہ سنا اور پھر دونوں نے مل کر دباؤ ڈالا کہ سادے کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگاؤ تو تب برائے طبعی امداد ڈاکٹر کے پاس جانے دیں گے

۔ سائل اور سائل کا بیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے اور دختر ہانیہ احمد انتقال کر چکی تھیں جبکہ سائل کی زوجہ صدمہ کی وجہ سے شدید پریشانی کی حالت میں تھی۔ عدیل احمد نے مزید کہا کہ سادے کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے کے بعد ان کا اور ان کے بیٹے کا طبعی معائنہ کروایا گیا اور انتہائی تشویش ناک حالت کی وجہ سے ڈاکٹر نے انہیں اور ان کے بیٹے کو بینظیر بھٹو شہید ہسپتال راولپنڈی ریفر کر دیا۔

عدیل احمد نے درخواست میں مزید کہا کہ جب وہ اگلے روز اپنی بیٹی ہانیہ احمد کے جنازے میں شرکت کرنے کے لیے ڈھڈیال آئے تو جنازے کے بعد سی سی ڈی کے سب انسپیکٹر محمد عرفان سے ملاقات ہوئی کیونکہ تفتیش تھانہ سٹی سے سی سی ڈی کے پاس آ چکی تھی۔ اس دوران انہیں پتہ چل چکا تھا کہ سی سی ڈی کے کانسٹیبل شجاعت کی سیدھی فائرنگ کی وجہ سے وقوعہ پیش آیا اور سائل کا بیان جس کی بِنا پر ایف آئی آر درج کی گئی تھانہ سٹی کے سب انسپیکٹر احسن عبداللہ نے اپنی طرف سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322 (قتل بالسبب) کے تحت درج کی حالانکہ مندرجات ایف آئی آر سے وقوعہ قتلِ عمد یعنی 302 تھا۔

مندرجات ایف آئی آر میں نامعلوم ملزمان جنہوں نے سائل کی زوجہ سے زیورات چھینے تھے کی طرف سے فائر اور بعد میں گاڑی کی اوٹ لے کر فائرنگ کرنا منسوب کیا گیا، حالانکہ دونوں ملزمان نے کوئی فائر نہ کیا۔ محض وقوعہ میں ملزم کو فائدہ دینے کے لیے یہ بات مذکورہ سب انسپیکٹر احسن عبداللہ نے خود ایزاد کی۔ عدیل احمد نے مزید کہا کہ انہوں نے سی سی ڈی کے سب انسپیکٹر محمد عرفان کو ساری تفصیل دی جنہوں نے ان کے سامنے ان کا بیان درج کیا جو حقیقت پر مبنی ہے۔ عدیل احمد نے کانسٹیبل عتیق اور سب انسپیکٹر احسن عبداللہ کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی استدعا کی تاکہ ان کے مذموم عزائم کسی طور پر بھی مقدمہ پر منفی اثرات مرتب نہ کر سکیں۔

عدیل احمد کی درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے ڈی پی او کاشف ذوالفقار نے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز کو فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست دہندہ اگر آسٹریلیا واپس چلا گیا ہے تو اس سے کال پر بات کریں اور تین روز کے اندر انکوائری مکمل کریں۔

رابطہ کرنے پر تھانہ سٹی کے ایک سینیئر پولیس آفیسر نے تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال سے گفتگو کرتے ہوئے عدیل احمد کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایف آئی آر ایس او پیز کو سامنے رکھ کر اور متاثرہ خاندان کے افراد کے سامنے درج کی۔ جس کانسٹیبل پر بدتمیزی کا الزام لگایا گیا ہے اس نے کوئی بدتمیزی نہیں کی۔ افسر نے مزید کہا کہ ایسی حالت میں جب ایک خاندان کی معصوم بچی جانبحق ہو چکی ہو، والد اور بھائی شدید زخمی ہو اور والدہ شدید صدمے میں مبتلا ہو، اس خاندان سے بدتمیزی کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔