امریکا کا ایران پر بڑا حملہ، 80 سے زائد اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ،تیل کی پابندیاں بھی دوبارہ نافذ
حملوں کا مقصد ایران کی فوجی اور بحری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو لاحق خطرات کا جواب دینا تھا۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے ایران کے تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں بھی دوبارہ نافذ کر دی ہیں،
امریکا نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت پر دی گئی عارضی رعایت بھی ختم کر دی گئی ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق کارروائی کے دوران ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد ایران کی فوجی اور بحری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو لاحق خطرات کا جواب دینا تھا۔
بیان کے مطابق فضائی کارروائیوں میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل تنصیبات، ڈرون لانچنگ سائٹس، اینٹی شپ کروز میزائل نظام اور متعدد بحری اثاثوں کو ہدف بنایا گیا۔
This video captures the precise moment U.S. Air Force strikes hit Iranian coastal air defense positions in Bandar Abbas. pic.twitter.com/If68Za49Pi
— Mohsin Ali (@Mohsin_o2) July 7, 2026
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ بعض مقامات پر زخمیوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ادھر امریکا نے ایران کے تیل کی برآمدات سے متعلق دی گئی عارضی رعایت بھی واپس لے لی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ متعلقہ اداروں اور کمپنیوں کو محدود مدت کے اندر ایران سے تیل کے لین دین ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی فیصلے کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ خطے کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی اقدامات کو مفاہمتی فریم ورک اور جنگ بندی کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
دوسری جانب قطر نے بھی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ سفارتی اقدامات کیے ہیں۔
واضح رہے کہ اس خبر میں شامل بعض دعوے امریکا، ایران اور دیگر متعلقہ فریقین کے سرکاری بیانات پر مبنی ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔