امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل مہنگا

برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک فیصد اضافے کے بعد 79 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی

July 9, 2026 · بام دنیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ایران پر امریکی فوج کی حالیہ کارروائیوں کے بعد خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

عالمی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ایک فیصد اضافے کے بعد 79 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی تقریباً ایک فیصد اضافے کے ساتھ 74.37 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ اسی طرح اماراتی مربن خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی امریکی کارروائیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر شپنگ کمپنیاں اپنے بحری راستوں اور سکیورٹی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہیں۔ بعض انشورنس اداروں نے بھی جنگی خطرات کے باعث جہاز رانی سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے، جبکہ اضافی خطرات کی وجہ سے انشورنس اخراجات میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت متاثر ہوئی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔