برطانیہ کا شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کیلئے قانون بدلنے کا فیصلہ
حکومت غیر ملکی جرائم پیشہ افراد کو ملک سے نکالنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔
برطانوی حکومت نے روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے امیگریشن قانون میں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ہوم سیکریٹری قانون میں ترمیم کا منصوبہ بنا رہی ہیں تاکہ 73 سالہ شبیر احمد کو برطانیہ سے ملک بدر کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت غیر ملکی جرائم پیشہ افراد کو ملک سے نکالنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔
شبیر احمد کو 2012 میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی اور ان کی برطانوی شہریت بھی ختم کر دی گئی تھی، تاہم ایک پرانے امیگریشن قانون کے باعث ان کی ملک بدری میں رکاوٹ پیش آ رہی تھی۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی حکام پاکستان سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ شبیر احمد کی واپسی کے معاملے پر پیش رفت کی جا سکے۔ روچڈیل کے رکن پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کے تحفظ کے لیے جلد از جلد قانونی رکاوٹیں دور کی جائیں۔
برطانوی وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر داخلہ نے اس معاملے کا جائزہ لیا، جس کے بعد حکومت نے قانون میں تبدیلی کے امکانات پر کام شروع کیا ہے۔
شبیر احمد کو ماضی میں روچڈیل میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس گروہ سے متاثر ہونے والی لڑکیوں کی تعداد درجنوں میں ہو سکتی ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ سزا یافتہ مجرم کی نگرانی جاری ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں اسے دوبارہ حراست میں لیا جا سکتا ہے۔