فلسطین میں 20 سال بعد قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا اعلان
صدر محمود عباس نے 28 نومبر کو مقبوضہ مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ میں ووٹنگ کا حکم دے دیا۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے دو دہائیوں بعد قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کا اعلان کرتے ہوئے 28 نومبر کو پولنگ کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
صدارتی فرمان کے مطابق انتخابات فلسطینی علاقوں، جن میں مقبوضہ مغربی کنارہ، مقبوضہ مشرقی یروشلم اور غزہ شامل ہیں، میں بیک وقت کرائے جائیں گے۔ اگر یہ انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوئے تو یہ گزشتہ 20 برس کے دوران فلسطین کے پہلے قانون ساز انتخابات ہوں گے۔
فلسطینی علاقوں میں آخری قانون ساز انتخابات 2006 میں ہوئے تھے، جن میں حماس نے غیر متوقع کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد حماس اور فتح کے درمیان سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے، جس کے نتیجے میں 2007 میں حماس نے غزہ کا کنٹرول سنبھال لیا، جبکہ فلسطینی سیاسی نظام دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر محمود عباس کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی قیادت کو عالمی سطح پر اپنی سیاسی ساکھ اور عوامی نمائندگی ثابت کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اعلان فلسطینی قیادت اور بااثر عالمی ممالک کے درمیان ہونے والے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا بھی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔