چین کا دوبارہ استعمال کے قابل خلائی راکٹ کو کامیابی سے زمین پر اتارنے کا دعویٰ

راکٹ کے بالائی حصے سے علیحدہ ہونے کے تقریباً چھ منٹ بعد اس کا بوسٹر عمودی انداز میں سمندر میں موجود ایک تیرتے ہوئے پلیٹ فارم پر لینڈ کر گیا۔

July 10, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

بیجنگ: چین کے سرکاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک نے پہلی بار دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ کو کامیابی سے زمین پر اتارا ہے۔ اسے چین کے خلائی پروگرام کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ 10 بی راکٹ کو جمعے کو جنوبی چین کے جزیرے ہائنان سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12:15 بجے چھوڑا گیا تھا۔

راکٹ کے بالائی حصے سے علیحدہ ہونے کے تقریباً چھ منٹ بعد اس کا بوسٹر عمودی انداز میں سمندر میں موجود ایک تیرتے ہوئے پلیٹ فارم پر لینڈ کر گیا۔

یہ کامیاب تجربہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ چین اب دوبارہ استعمال کے قابل راکٹوں کے میدان میں امریکہ کی برتری کو چیلنج کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ اس سے قبل ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس اور ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی بلیو اوریجن بھی ایسے راکٹوں کی کامیاب لینڈنگ کر چکی ہیں۔

عام طور پر راکٹوں کو ایک بار استعمال ہونے والا سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کے مختلف حصے پرواز کے دوران الگ ہو کر تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے باعث خلائی جہازوں کی روانگی کا عمل مہنگا پڑتا ہے۔

بوسٹرز جنھیں عموماً راکٹ کا سب سے قیمتی حصہ سمجھا جاتا ہے کو دوبارہ استعمال کرنے سے سیٹلائٹ لانچ کرنے اور خلائی تحقیق کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

دسمبر 2015 میں سپیس ایکس نے پہلی بار خلائی پرواز سے واپس آنے والے دوبارہ قابلِ استعمال فالکن 9 راکٹ کو کامیابی سے اتارا تھا۔ نومبر 2025 میں بلیو اوریجن نے اپنے نیو گلین راکٹ کی کامیاب لینڈنگ کی تھی۔