بھارت: ’گئو رکشکوں‘ کو سزا سنانے والی مسلمان جج کو قتل اور ریپ کی دھمکیاں

اگر سزا یافتہ افراد کو 10 دن کے اندر رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر میں ’خون ریزی‘ ہو گی، سوشل میڈیا پر دھمکی

فائل فوٹو

فائل فوٹو

نئی دہلی: انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک مسلم خاتون جج کو، گائے کی اسمگلنگ کے شبہے میں ایک مسلمان شہری کو تشدد کر کے قتل کرنے والے 14 ہندو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنانے پر، آن لائن شدید نفرت انگیز مہم اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج تبسم خان کی حفاظت کے پیشِ نظر انہیں پولیس سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ عدالتی تنظیموں نے ان کے خلاف جاری مہم کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ معاملہ 2022 کا ہے جب 50 سالہ نذیر احمد نامی شخص رات کے وقت گاڑی میں مویشی لے جا رہے تھے۔ راستے میں لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے مسلح خود ساختہ ’گئو رکشکوں‘ (گائے کے محافظوں) کے ایک ہجوم نے انہیں روک لیا۔ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس مانا جاتا ہے اور انڈیا کی کئی ریاستوں میں اس کے ذبح پر پابندی ہے۔ ہجوم نے نذیر احمد اور ان کے دو ساتھیوں کو گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں نذیر احمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ان کے دو ساتھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے جنہوں نے عدالت میں اہم گواہی دی۔

12 جون کو مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جج تبسم خان نے ریمارکس دیے کہ ”یہ ہجوم کے ہاتھوں قتل (موب لنچنگ) کا ایک واضح مقدمہ تھا“۔ عدالت نے تمام 14 ملزمان کو قتل، اقدامِ قتل، فساد اور غیر قانونی راستہ روکنے سمیت مختلف جرائم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔

فیصلے کے بعد احتجاج اور آن لائن نفرت انگیز مہم

عدالتی فیصلے کے فوراً بعد مجرموں کے اہل خانہ نے عدالت کے باہر شدید احتجاج کیا اور ملزمان کو جیل منتقل کرنے والی پولیس گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔ مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ ان کے پیاروں کو صرف ’گائے بچانے‘ کی سزا دی گئی ہے۔

اس کے بعد، ہندو دائیں بازو سے وابستہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے جج تبسم خان کے خلاف ایک منظم اور زہریلی مہم شروع کر دی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں ان کے قانونی فیصلے کے بجائے ان کے مسلم عقیدے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ ریپ اور قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ صرف اس لیے دیا کیونکہ ملزمان ہندو تھے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ایک شخص نے سرعام دھمکی دی کہ ”اگر سزا یافتہ افراد کو 10 دن کے اندر رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر میں ’خون ریزی‘ ہو گی“۔

کسی جج کے خلاف اس نوعیت کے فرقہ وارانہ حملوں اور دھمکیوں پر انڈیا کی قانونی اور عدالتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدلیہ کی اہم تنظیمیں جج تبسم خان کی حمایت میں سامنے آئی ہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ ججوں کو ان کے فیصلوں پر مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنانا قانون کی بالادستی پر حملہ ہے۔

شدید خطرات کے پیشِ نظر مقامی انتظامیہ نے جج تبسم خان کی سکیورٹی میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں چوبیس گھنٹے پولیس تحفظ فراہم کر دیا ہے، جبکہ دھمکیاں دینے والے سوشل میڈیا ہینڈلز کے خلاف تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔