امریکہ۔ایران مفاہمتی یادداشت شدید متاثر۔سفارت کاری کا مستقبل غیر یقینی
حملوں کے تبادلے اور نئی پابندیوں نے امریکا۔ایران معاہدے کو تقریباً بے اثر کر دیا
امریکہ اور ایران کے درمیان تین ہفتے قبل طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) حالیہ فوجی کارروائیوں اور نئی امریکی پابندیوں کے باعث بڑی حد تک غیر مؤثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران کے خلاف اپنی بڑی فوجی کارروائیوں میں سے ایک انجام دی، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کرنے کے چھٹے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
حالیہ حملوں کا زیادہ تر مرکز خلیجی خطہ اور آبنائے ہرمز کے گردونواح رہے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اور ایرانی مسلح افواج کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق انہوں نے اردن میں ایندھن کے ایک ڈپو، بحرین میں ہیلی کاپٹروں کی مرمت کی ایک تنصیب، جبکہ کویت میں ایندھن کے ذخائر اور پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔
ادھر پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں کو روک لیا گیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی شق 5 کے تحت آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت پر اس کا مکمل اختیار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی بنیادی شقیں اب تقریباً غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ شق نمبر 1 میں دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث عملاً ختم ہو چکا ہے، جبکہ شق نمبر 10 میں پابندیاں ختم کرنے کا ذکر تھا، لیکن امریکا نے حال ہی میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
ان حالات کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان مستقبل میں سفارتی پیش رفت کے امکانات بھی خاصے کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔