آبنائے ہرمز پر کشیدگی۔ خلیجی ممالک کی تیل برآمدات شدید متاثر

آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس رسد متاثر

July 13, 2026 · بام دنیا

آبنائے ہرمز پر جاری کشیدگی کے باعث خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی تیل اور گیس کی برآمدات شدید متاثر ہونے لگی ہیں، جبکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک کی معیشت کا بڑا انحصار تیل اور گیس کی ان برآمدات پر ہے جو آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز پر نقل و حرکت محدود یا بند ہونے سے ان ممالک کی معیشتوں کو سخت دھچکا پہنچ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف خلیجی ممالک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اس بحران سے متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقہ تک پہنچتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بنتی ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوشش کرنے والے ممالک بھی اس تنازع کی زد میں آ گئے ہیں۔ ایران کی جانب سے گزشتہ روز قطر اور عمان پر حملے کیے گئے، جس کے بعد عمان نے احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا۔

قطر کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسے حملے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔