محنت، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی ہی کامیابی کی کنجی ہیں:مصباح الحق

نوجوان کرکٹرز کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور ان پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے

July 13, 2026 · اسپورٹس

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، قومی سلیکٹر اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے بیٹنگ کنسلٹنٹ مصباح الحق نے کہا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کی کامیابی صرف قدرتی صلاحیت پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ نظم و ضبط، مسلسل محنت اور مستقل مزاجی بھی اس سفر کے لازمی عناصر ہیں۔

پی سی بی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور ان پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ضرورت سے زیادہ دباؤ ان کے اعتماد اور کھیل سے وابستگی کو متاثر کر سکتا ہے۔

انہوں نے کوچز، مینٹورز اور والدین پر زور دیا کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی ضرور کریں، لیکن ان کی عمر، ذہنی نشوونما اور سیکھنے کے عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ترقی کے مواقع فراہم کریں۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ نوجوان کرکٹرز کو اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مناسب وقت اور بھرپور مواقع ملنے چاہییں تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کے لیے بہتر انداز میں تیار ہو سکیں۔

انہوں نے چار روزہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہی فارمیٹ کھلاڑیوں کی تکنیک، صبر، فیصلہ سازی اور ذہنی مضبوطی کو بہتر بناتا ہے، جو بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

سابق کپتان نے مزید کہا کہ کامیاب کھلاڑی اپنی فٹنس، روزانہ کی پریکٹس، متوازن غذا اور محنت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر نوجوان کرکٹرز نظم و ضبط، محنت اور مستقل مزاجی کو اپنی عادت بنا لیں تو وہ مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے اہم سرمایہ ثابت ہوں گے۔

اگر چاہیں تو میں اس خبر کے لیے مختصر سرخی، SEO عنوان، کی ورڈز اور ہیش ٹیگز بھی تیار کر سکتا ہوں۔