احمدی نژادکومتبادل ایرانی رہنمابنانے کااسرائیلی منصوبہ بے نقاب۔تہلکہ خیز انکشاف
اس منصوبے کا آغاز 2024 کے اوائل میں ہواتھا، نیویارک ٹائمز
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے کئی برس تک ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو ایک ممکنہ انٹیلی جنس اثاثے اور ایران میں ممکنہ متبادل قیادت کے طور پر تیار کرنے کی خفیہ کوشش کی، تاہم یہ منصوبہ بالآخر ناکام ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے کا آغاز 2024 کے اوائل میں ہوا، جب ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں واقع ’’لودوویکا یونیورسٹی آف پبلک سروس‘‘ کے ریکٹر پروفیسر گیرگلی ڈیلی کو ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کی جانب سے محمود احمدی نژاد کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک کانفرنس میں مدعو کرنے کی درخواست کی گئی۔ بظاہر یہ ایک علمی تقریب تھی، لیکن اس کا اصل مقصد احمدی نژاد اور اسرائیلی انٹیلی جنس حکام کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کا انتظام کرنا تھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، موساد کے اُس وقت کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے 2024 میں بڈاپسٹ میں احمدی نژاد سے ملاقات کی۔ رپورٹ میں امریکی اور ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کا خیال تھا کہ چونکہ احمدی نژاد ایرانی قیادت، خصوصاً سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کے ناقد بنتے جا رہے تھے، اس لیے اگر ایران میں حکومت تبدیل ہوتی ہے تو وہ ایک قابلِ قبول متبادل رہنما ثابت ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمدی نژاد نے 2025 میں بھی بڈاپسٹ کا ایک اور دورہ کیا، جو اسی طویل المدتی منصوبے کا حصہ تھا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ موساد نے ان کے بیرونِ ملک سفر اور رہائش کے اخراجات بھی برداشت کیے اور انہیں ایرانی حکومت پر تنقید جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، منصوبہ 2026 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اپنے عروج پر پہنچا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موساد نے ایک اسرائیلی فضائی حملے کے بعد احمدی نژاد کو تہران میں ان کے کمپاؤنڈ سے نکال کر ایک محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوشش کی تاکہ حکومت کی تبدیلی کے وسیع منصوبے پر عمل کیا جا سکے، تاہم یہ کارروائی کامیاب نہ ہو سکی۔
اخبار کے مطابق، احمدی نژاد اس منصوبے سے مطمئن نہیں تھے اور انہوں نے اسرائیلی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا، جس کے باعث یہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام کا خیال ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مبینہ روابط سامنے آنے کے بعد احمدی نژاد کو نظر بند کر دیا گیا، تاہم حالیہ عرصے میں ان کی بعض عوامی تقریبات میں شرکت کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جس کے باعث ان کی موجودہ صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں۔
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد احمدی نژاد کو ایران میں اسلامی جمہوریہ کے بعد ممکنہ عبوری قیادت کے طور پر پیش کرنا تھا، حالانکہ وہ ماضی میں اسرائیل مخالف سخت بیانات اور ایران کے جوہری پروگرام کی حمایت کے باعث پہچانے جاتے رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تفصیلات اسرائیلی اخبار’’ ہارٹز‘‘کی ایک سابق رپورٹ سے کافی حد تک مطابقت رکھتی ہیں، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ موساد نے احمدی نژاد کے ساتھ برسوں تک روابط استوار کیے اور انہیں ایران میں ممکنہ سیاسی تبدیلی کے تناظر میں ایک اہم شخصیت کے طور پر دیکھا۔ہارٹز کے مطابق، اس وسیع تر منصوبے میں ایران کے اندر مختلف حکومت مخالف عناصر کے ساتھ روابط اور دیگر خفیہ اقدامات بھی شامل تھے، تاہم اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے بعض اعلیٰ حکام نے اس حکمت عملی کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، نہ موساد اور نہ محمود احمدی نژاد کے نمائندوں نے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ تبصرہ کیا ہے۔