فاٹا اور پاٹا کوئی ٹیکس نہیں دےگا،وفاق سےحق مانگیں گے:گورنر کے پی
فیصل کریم کنڈی کا قبائلی علاقوں کے لیے 100 ارب فنڈز کا مطالبہ
فائل فوٹو
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاق سے قبائلی علاقوں کے لیے وعدہ کردہ 100 ارب روپے کی رقم جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فاٹا اور پاٹا کوئی ٹیکس نہیں دے گا۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست نے قبائلی علاقوں کو جو 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، اسے پورا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کو واضح کردیا ہے کہ فاٹا اور پاٹا ٹیکس نہیں دے گا۔ گورنر خیبرپختونخوا نے سوال کیا کہ ایف بی آر کے چیئرمین اے سی کمرے سے نکل کر کتنی بار وزیرستان گئے ہیں، کیا اسلام آباد کے اے سی کمروں میں بیٹھے بابو باہر نکل کر کام کرتے ہیں؟
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ گیس اور بجلی ہم بناتے ہیں، مگر ہمارے شہری گیس اور بجلی سے محروم ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو ساتھ مل کر صوبے کے لیے آواز اٹھانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ہم اکٹھے ہوں گے تو وفاق سے اپنا حق لیں گے۔ وزیراعلیٰ سے کہا ہے کہ ٹیکس کے لیے مل کر آواز اٹھائیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے امن قائم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے نوجوانوں کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے، کرکٹ کا شوق رکھنے والوں کو بیرون ملک نہیں بھیج سکے، باصلاحیت کھلاڑی آگے لانے کے لیے کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آج کرکٹ ٹیم میں آدھے سے زیادہ کھلاڑی خیبرپختونخوا سے ہیں۔ 16 سال اسکواش پر حکمرانی کرنے والے جان شیر کے بعد کوئی چیمپئن نہیں آیا، جبکہ قومی کھیل ہاکی کا یہ حشر ہوگیا ہے کہ کوئی نام تک نہیں لیتا۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کرکٹ لیگ 18 جولائی سے شروع ہورہی ہے، جس میں شرکت کے لیے وزیراعلیٰ کو بھی دعوت دی ہے تاکہ مل کر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔
گورنر کے پی نے بتایا کہ پشاور سے سعودی ایئر لائن کی سروس شروع ہوگئی ہے، جس کے بعد اب روڈ ٹو مکہ سروس پشاور سے شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جبکہ مزید بین الاقوامی ایئر لائنز سروس شروع ہونے جارہی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں خیبرپختونخوا سے کماتی ہیں مگر اس پر خرچ نہیں کرتیں۔