اسلامی ممالک سے تصادم نہیں چاہتے، امریکی حملے جاری رہے تو جنگ پھیل سکتی ہے: ایرانی فوج
ایرانی مسلح افواج کی اولین ذمہ داری ملک کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ ہے، جس کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
تہران: ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کا اپنے ہمسایہ یا دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ کسی قسم کے تصادم کا ارادہ نہیں، تاہم اگر امریکا نے فوجی کارروائیاں جاری رکھیں تو تنازع مزید نئے محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ خطے کے ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات، امن اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کا حامی رہا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی اولین ذمہ داری ملک کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ ہے، جس کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
محمد اکرمینیا نے واضح کیا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف کسی بھی محاذ آرائی کا خواہاں نہیں بلکہ خطے میں استحکام اور تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر حملے جاری رہے تو ایران اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج نے ابھی اپنی تمام دفاعی صلاحیتیں استعمال نہیں کیں، اور مزید حملوں کی صورت میں ردعمل حالات کے مطابق ہوگا، جو مخالفین کی توقعات سے بھی زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق ایران ایک طرف خطے کے ممالک کو یقین دہانی کرا رہا ہے کہ اس کی پالیسی ان کے خلاف نہیں، اور دوسری جانب امریکا کو خبردار کر رہا ہے کہ فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔