شہری پرتشدد اور52 لاکھ چھیننےکا الزام،این سی سی آئی اےافسران کیخلاف درخواست

پشاور ہائیکورٹ میں مبینہ حراست، بھتہ طلبی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مؤقف

July 16, 2026 · قومی

فائل فوٹو

شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور بھتہ طلب کرنے کے الزام میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دو انسپکٹرز کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

درخواست محمد سہیل خان نے اپنے وکیل شاہد محمود ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی، جس میں وزارت داخلہ، این سی سی آئی اے، انسپکٹر احمد جان اور انسپکٹر نعمان کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق وہ پیشے کے لحاظ سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور تعمیراتی کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں 2 جولائی کو پشاور کے ایک نجی ریستوران سے دونوں انسپکٹرز نے بغیر کسی وارنٹ یا قانونی جواز کے حراست میں لیا اور بعد ازاں این سی سی آئی اے کے دفتر منتقل کیا، جہاں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعلقہ افسران نے درخواست گزار سے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، جبکہ ان کی جیب سے 52 لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون بھی چھین لیا گیا۔

درخواست کے مطابق تشدد کے دوران دباؤ ڈال کر درخواست گزار سے ایک اقرار نامے پر انگوٹھے کے نشانات بھی لیے گئے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ رہائی کے بعد درخواست گزار نے اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال سے طبی معائنہ کرایا، جہاں مبینہ تشدد کے نشانات کی تصدیق ہوئی۔

درخواست گزار نے الزام لگایا کہ متعلقہ افسران نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ان کی ذاتی زندگی کے معاملات میں بھی مداخلت کی۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ دونوں افسران کے خلاف انکوائری کر کے انہیں معطل کیا جائے، جبکہ ریستوران اور این سی سی آئی اے دفتر کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ طور پر زبردستی لیے گئے اقرار نامے کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور 52 لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون واپس دلانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔