سیف اللہ جھیل کشتی حادثہ کی انکوائری رپورٹ میں ادارے ذمہ دار قرار

پولیس، پی ڈی ایم اے، ریسکیو اور ٹورازم اتھارٹی ذمہ دار قرار

July 16, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

وادی کالام کی سیف اللہ جھیل میں یکم جولائی کو پیش آنے والے کشتی حادثے کی انکوائری رپورٹ خیبرپختونخوا حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں پولیس، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ٹورازم اتھارٹی کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام قرار دیا گیا ہے۔

سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی نے رپورٹ میں انکشاف کیا کہ حادثے کا شکار کشتی بغیر این او سی چلائی جا رہی تھی، کشتی میں چپو بھی موجود نہیں تھا، جبکہ سفر کے دوران اس کا جنریٹر بند ہو گیا تھا، جس کے بعد تیز پانی کے ریلے نے کشتی کو بہا دیا۔

حادثے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد دریا برد ہوئے تھے، جن میں سے چھ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ ایک لڑکی کی تلاش تاحال جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق حادثے کے روز سوات میں دفعہ 144 نافذ تھی اور غیر قانونی کشتی رانی و دریاؤں میں نہانے پر پابندی عائد تھی، تاہم پولیس اس پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی۔

انکوائری میں بتایا گیا کہ پولیس نے دریا میں نہانے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے، لیکن غیر قانونی کشتی رانی کرنے والوں کے خلاف کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹورازم پولیس کے 37 اہلکاروں میں سے 17 چھٹی پر تھے، جبکہ ریسکیو 1122 کی ایمبولینس جائے حادثہ تک پہنچنے اور واپسی کے دوران دو مرتبہ خراب ہوئی، جس سے امدادی کارروائی متاثر ہوئی۔

انکوائری کمیٹی نے تمام کشتیوں کی لازمی رجسٹریشن، این او سی کے اجرا، لائف جیکٹس کی فراہمی اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی پانچ سال قبل قائم ہونے کے باوجود اس کے رولز اینڈ ریگولیشنز اور بورڈ تاحال تشکیل نہیں دیے گئے، جس کے باعث کشتی رانی کی نگرانی کے حوالے سے ادارہ جاتی ابہام موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق کلچر اینڈ ٹورازم سے متعلق قوانین کے تحت ذمہ داریوں کے تعین پر بھی مختلف اداروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیف اللہ جھیل میں مقامی افراد لکڑی سے تیار کردہ 250 سے زائد کشتیوں پر جنریٹر انجن نصب کرکے سیاحوں کو سیر کراتے ہیں، جبکہ بیشتر کشتی رانوں کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار روپے مالیت کی لائف جیکٹس خریدنا ان کی مالی استطاعت سے باہر ہے۔