بلوچستان کے بیوروکریٹ صوبے کے بجائے اسلام آباد میں مقیم، سینیٹر دنیش کمار کی حیران کن گفتگو
بعض افسران زمینی حقائق سے مختلف رپورٹس پیش کرتے ہیں، جبکہ عملی صورتحال ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اسلام آباد: سینیٹر دنیش کمار نے بلوچستان میں تعینات بعض سرکاری افسران کی حاضری اور کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ حکام کو صوبے میں خدمات انجام دینی چاہئیں، تاہم بعض افسران زیادہ تر اسلام آباد یا دیگر شہروں میں رہتے ہیں۔
اُمت ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ایک کمیٹی اجلاس کے دوران یہ معاملہ سامنے آیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے بعض افسران، جن کی تعیناتی بلوچستان میں ہے، مبینہ طور پر زیادہ تر وقت اسلام آباد یا دیگر شہروں میں گزارتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے لیے مقرر الاؤنس بھی وصول کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض افسران اگر بلوچستان جاتے بھی ہیں تو صرف کوئٹہ تک محدود رہتے ہیں، جبکہ جن کی تعیناتی دیگر اضلاع میں ہے وہ بھی وہاں مستقل موجود نہیں ہوتے۔ ان کے بقول اس صورتحال کا اثر ترقیاتی منصوبوں اور سڑکوں کی نگرانی پر پڑتا ہے۔
سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ بلوچستان میں پاک فوج، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار محدود وسائل کے باوجود اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، اس لیے سول افسران کو بھی اپنی تعیناتی کے مقامات پر موجود رہ کر فرائض انجام دینے چاہئیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض افسران زمینی حقائق سے مختلف رپورٹس پیش کرتے ہیں، جبکہ عملی صورتحال ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
دنیش کمار نے بتایا کہ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ تعینات افسران کی موجودگی اور فرائض کی ادائیگی کی مؤثر جانچ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ افسران کے سرکاری ریکارڈ اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی تعیناتی کے مقامات پر کتنی مدت گزارتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا، حقائق سامنے لانا اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔