تجارت میں اضافہ، تعلقات کے فروغ، اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کرنے پاکستان آئےہیں،ایرانی وزیر داخلہ

سکندر مومنی کی اسلام آباد آمد کے بعد میڈیا سے بات چیت

July 21, 2026 · اہم خبریں

 

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی اپنے پاکستانی ہم منصب سید محسن نقوی کی دعوت پر اعلی سطح وفد  لے کر دو روزہ سرکاری دورے پراسلام آباد پہنچ گئے۔

نور خان ایئربیس پر وفاقی وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایرانی وزیرِ داخلہ اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔

ایرانی وفد میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ شہری ترقی، وزارتِ زراعت، ایران کی قانون نافذ کرنے والی فورس اور کسٹمز انتظامیہ کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

ایرانی وزارتِ داخلہ کے مطابق وفد میں وزارتِ پیٹرولیم، صنعت، معیشت و خزانہ کے نمائندے اور صوبہ سیستان و بلوچستان کے سینئر حکام بھی شامل ہیں۔

دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، سرحدی تعاون کو مضبوط بنانے، اقتصادی، ٹرانزٹ اور زرعی شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

یہ دورہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی اس ہدایت کے تحت کیا جا رہا ہے جس میں ایران اور پاکستان کے درمیان سالانہ تجارتی حجم کو تین ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان میں بعض امور پر اتفاق ہوا تھا جن پر عملدرآمد ابھی باقی ہے، گزشتہ دورے میں معاہدوں اور فیصلوں پر عملدرآمد اور پیش رفت کو یقینی بنانے پاکستان آئے ہیں۔

ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ باہمی تجارتی حجم ابتدائی مرحلے میں 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔

مومنی کا مزید کہنا تھا کہ تجارتی ہدف کے لیے ضروری ہے دونوں ممالک مناسب سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ بنائیں، یومیہ دو ہزار ٹرکوں کی آمدورفت یا تجارتی نقل و حرکت درکار ہوگی۔

سپنے دورے کے حوالے سے انہوں ںے مزید بتایا کہ وہ پاکستانی حکام سے خطے کی موجودہ صورتِ حال پر بھی بات چیت کریں گے۔