اپالو مشن میں رکاوٹ دوکرنے کے لیے ناساکو پاکستان سے مددمانگناپڑی

موسمی حالات اور بالائی فضا کی تفصیلی معلومات کا حصول ناگزیرتھا

 

چاند پر جانے کا امریکی خواب پوراکرنے میں پاکستان کااہم ترین کردار تھا۔اگر ضروری اوربنیادی ڈیٹا نہ ملتا توشایدخلائی تاریخ مختلف ہوتی۔اس حیران کن دعوے کی تفصیل بھی حیرت انگیزہے۔

دنیامیں خلائی دوڑ 1950 کی دہائی میں شروع ہوئی،اور سوویت یونین اس دوڑمیں آگے تھا۔

امریکہ نے بھی اپنے ماہرین سے کہا کہ وہ مون مشن شروع کریں۔دیکھتے ہیں چاندپرپہلے کون جاتاہے۔ناسا قائم ہوا اور اپالوپروگرام وجودمیں آیا۔لیکن پھرایک رکاوٹ سامنے آگئی۔

پتاچلا کہ اپالو براہ راست چاند پر نہیں جاسکتاجب تک موسمی حالات اور بالائی فضا کی تفصیلی معلومات حاصل نہ ہوجائیں۔بحرہند اس کے لیے مناسب ترین مقام تھا ۔ لیکن اس کے اوپر کی فضا تاریکیوں میں ڈوبی تھی یعنی یہ بلیک ہول تھا۔امریکہ کو اس جگہ کی فضائی صورت حال کا نقشہ بناناتھا ۔

بھارت اور پاکستان سمیت کچھ ملکوں سے درخواست کی گئی کہ امریکہ راکٹ، اور اس کی لانچنگ رینج تیارکرنے میں مدد فراہم کرے گا ،ہمیں مطلوبہ معلومات حاصل کرکے دیں۔
مزید تفصیل اس وڈیومیں جانیں۔