اب بھی ایران سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول قبول نہیں، مارکو روبیو

امریکا جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، لیکن عالمی آبی گزرگاہوں پر کسی ایک ملک کی شرائط نافذ کرنا ناقابل قبول ہے۔

July 22, 2026 · بام دنیا

 

منیلا: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم آبنائے ہرمز پر ایران کے کسی بھی قسم کے کنٹرول یا عالمی بحری آمدورفت میں رکاوٹ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، لیکن عالمی آبی گزرگاہوں پر کسی ایک ملک کی شرائط نافذ کرنا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اس لیے اس کی آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر ایران سنجیدہ انداز میں مذاکرات چاہتا ہے تو واشنگٹن بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم عالمی تجارت یا بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی اور تجارتی منڈیوں کے لیے اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔